Android AppiOS App

آنجہانی پرنس فلپ نے موت کے بعد اپنا تابوت اس لینڈ روور میں آخری آرامگاہ تک لے جانے کی وصیت کیوں کی تھی ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

  پیر‬‮ 19 اپریل‬‮ 2021  |  16:37

ملکہ برطانیہ کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا کی آخری رسومات ہفتہ کو ادا کر دی گئیں۔ڈیوک آف ایڈنبرا کی آخری رسومات کو شاہی خاندان کی روایات کے تحت ادا کیے جانے کے لیے ہر چھوٹی سی چھوٹی چیز کو بھی انتہائی اہمیت دی گئی۔دوسرے تمام لوگوں کی طرح شاہی امور پر نگاہ رکھنے

والوں کے لیے بھی کچھ چیزوں کی وضاحت ضروری ہے۔میت لے جانے والی لینڈ روور گاڑی : یہ ایک مضبوط گاڑی ہے اور یہ برطانوی فوج کی عملی طور پر ایک اہم گاڑی سمجھی جاتی ہے جبکہ کئی دہائیوں سے یہ ڈیوک کی پسندیدہ گاڑی بھی رہی ہے۔ لہٰذا جب ان کی آخری رسومات کی منصوبہ بندی کرنے کی بات آئی تو لینڈ روور ہی واحد پسند قرار پائی۔ڈیوک نے لینڈ روور کے اس

مخصوص ماڈل ڈیفینڈر ٹی ڈی پانچ 130 (Defender TD5) میں تبدیلی کر نے میں اپنے 16 سال لگا دیے۔ یہ مخصوص ماڈل کمپنی کے سولیہل فیکٹری میں سنہ 2003 میں تیار کیا گیا تھا۔ جب وہ 82 سال کے ہوئے تو انھوں نے پہلی بار اس گاڑی کو اپنے تابوت بردار کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اس میں اپنی نگرانی میں تبدیلیاں کروائیں اور سنہ 2019 میں جب وہ 98 سال کے ہوئے تو انھوں نے اس میں آخری تبدیلی کروائی تھی۔ڈیوک کی درخواست پر اس کارآمد گاڑی کو فوجی سبز رنگ میں دوبارہ رنگا گیا تھا اور انھوں نے اپنے تابوت کے لیے اوپن ٹاپ ریئر کے ساتھ ساتھ اس کو محفوظ رکھنے کے لیے جگہ جگہ ‘اسٹاپس’ بھی تیار کروائے تھے۔جنازے کے جلوس میں بھاری بھرکم گاڑی کا سینٹ جارج چیپل کی جانب آہستہ آہستہ چلنا پچھلے شاہی جنازوں کے برعکس تھا جہاں روایتی طور پر ایک سنجیدہ پتلی سے جنازہ بردار گاڑی سوگواروں کے درمیان سے گزرتی تھی۔گذشتہ برسوں میں یہ بات بڑے پیمانے پر منظر عام پر آتی رہی ہے کہ اپنے جنازے کی تیاریوں کے انتظامات پر اظہار خیال کرتے ہوئے شہزادہ فلپ نے ایک بار ملکہ سے مذاقاً کہا تھا: ’بس مجھے لینڈ روور کے

پیچھے رکھ کر ونڈزر پہنچا دینا۔‘ بہرحال کووڈ کی پابندیوں کے باعث سنیچر کے روز وسطی لندن سے ونڈزر تک کوئی جلوس نہیں تھا۔جہاں شاہی خاندان کے بہت سارے افراد لینڈ روور کے پیچھے جنازے کے جلوس میں چل رہے تھے وہیں ملکہ بالکل مختلف گاڑی یعنی بینٹلی اسٹیٹ لیموزین میں سفر کر رہی تھیں۔یہ گاڑی عام طور پر سٹیٹ بینٹلی کے نام سے جانی جاتی

ہے لیکن اسے سنہ 2002 میں ہر میجسٹی یعنی ملکہ عالی جاہ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر ان کے حضور پیش کیا گیا تھا۔اس کے پچھلے دروازے کا ڈیزائن اس طرح ہے کہ ملکہ گاڑی سے اترنے سے قبل باوقار انداز میں پوری طرح کھڑی ہو سکیں اور شاہی دوروں پر پُروقار انداز سے باہر نکلنے کو یقینی بنایا جا سکے۔بینٹلی کار بنانے والی کمپنی کے مطابق اس کار کی تیاری میں ملکہ اور ڈیوک کی جانب سے دو برسوں تک ‘مستقل طور پر’ انھیں ہدایات ملتی رہیں۔یہ گاڑی بولٹ پروف اورایئر ٹائیٹ ہے تاکہ اس کے ڈرائیور اور مسافر محفوظ رہیں اس کے ساتھ اس کے پیچھے کے حصے میں اوپیک پینلز ہیں تاکہ بوقت ضرورت خلوت کی سہولت ہو۔ گاڑی کے بیرونی حصے کو شاہی رنگوں میں پینٹ کیا گیا ہے جبکہ دونوں جانب کنارے پر سرخی مائل رنگ چڑھائے گئے ہیں۔لیموزین 130 میل فی گھنٹے (یا 209 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کر سکتی ہے اور پنکچر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اس کے ٹائروں کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔لیکن سنیچر کے روز ونڈزر کیسل کے میدان میں اسے صرف چند سو گز کا فاصلہ طے کرنا تھا اور وہ بھی پیدل چلنے کی رفتار سے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎