Android AppiOS App

بریکنگ نیوز: فرانسیسی شہریوں نے پاکستان سے واپس اپنے ملک جانے سے انکار کردیا ، مگر کیوں ؟ وجہ حیران کن

  پیر‬‮ 19 اپریل‬‮ 2021  |  13:16

پاکستان میں مقیم فرانسیسی شہریوں نے ملک چھوڑنے کی اپنے سفارت خانے کی ہدایت پر عمل کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان شاندارملک، لوگ پرکشش ، انتہائی مہربان، واپس نہیں جائینگے،لوگ ہمارے دفاع کیلئے بھی تیار ہیں۔اظہار یکجہتی دیکھنا بڑا جذباتی تجربہ ہے ،یہاں خوف محسوس نہیں کرتے،سفارتی پیغام منفی تاثر

فرانس پہنچائے گا،ہمیں قدرے حیرت ہے فرانس کو یہ پیغام عالمی سطح پر پھیلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟غیرملکی خبررساں ادارے کےمطابق پاکستان میں تعینات فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کرنے والی تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے بدامنی پر مبنی احتجاج کے بعد فرانسیسی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی تھی تاہم ایسا دکھائی دیتا ہے کہ زیادہ تر فرانسیسیوں نے پاکستان میں ہی

رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔3سطروں پر مشتمل ایک مختصر ای میل میں فرانسیسی سفارت خانے نے جمعرات کو اپنے شہریوں اور کمپنیوں سے کہا تھا کہ وہ ’سنگین خطرات‘ کی وجہ سے پاکستان سے چلے جائیں۔ای میل کے ساتھ ’فوری‘ کا لفظ لکھا تھا۔ یہ ای میل، جس میں خطرات کی نوعیت کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی تھی، پاکستان میں مقیم چند سو افراد پر مشتمل فرانسیسی برادری کے لیے پریشانی اور اضطراب کا سبب بن گئی۔تین سال سے اسلام آباد کے امریکی اسکول میں فرانسیسی زبان پڑھانے والے ژاں مشیل قارنتوتی کو ان کے ایک طالب علم نے سفارت خانے کی ایڈوائزری کے بارے میں بتایا۔فرانسیسی استاد نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ابتدا میں جو خوف اور ڈر میں نے محسوس کیا اسے آپ سے نہیں چھپاؤں گا، یہ میرا پہلا غیرملکی نہیں،میں پاکستان آنے سے پہلے کئی ملکوں میں رہ چکا ہوں لیکن واقعی مجھے صدمہ پہنچا، مجھے توقع نہیں تھی کہ ایسے حالات سے گزرنا پڑے گا۔قارنتوتی نے کہا کہ پہلے انہوں نے سوچا کہ سامان باندھیں اور چلے جائیں لیکن ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعد عقل جذبات پر غالب آ گئی،

میرے ارد گرد موجود پاکستانی شہریوں نے مجھے یہیں رہنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے مجھ سے کہا وہ میری حفاظت کریں گے، لوگوں کی جانب سے اظہار یکجہتی دیکھنا بڑا جذباتی تجربہ تھا،انہوں نے مجھ سے کہا ہم ہیں نا،آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ہم آپ کا دفاع کریں گے۔غیرملکی خبررساںادارے کے رابطہ کرنے پر بہت سے فرانسیسی شہریوں نے اپنے سفارت خانے کے پیغام کے وقت پر سوال اٹھایا کیونکہ حکومت پاکستان حال ہی میں ٹی ایل

پی پر پابندی لگا چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ صورت حال پر قابو پا لیا گیا ہے۔قرنتوتی کا کہنا تھاکہ الفاظ کے غلط انتخاب سے فرانسیسی برادری کو خوف زدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہمیں قدرے حیرت ہے کہ فرانس کو یہ پیغام عالمی سطح پر پھیلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی حالانکہ فرانسیسی شہریوں کو کہیں زیادہ بہتر طریقے سے یہ پیغام پہنچایا جا سکتا تھا،فرانسیسی شہری جولیئن (فرضی نام) نے بھی پاکستان میں قیام کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف تجویز ہے اس لیے میں ملک سے نہیں جاؤں گا۔‘انہوں نے اپنے ادارے کی طرف سے انہیں یورپ بھجوانے یا اسلام آباد میں ان کی رہائش کے باہر محافظ تعینات کرنے کی پیشکش بھی مسترد کر دی،وہ کہتے ہیں کہ’کچھ بھی ہو اکتوبر، نومبر سے حالات میں اتارچڑھاؤ آ رہا ہے۔اس لیے صورت حال کے پرامن ہونے کا انتظار کریں گے،دو ماہ سے بھی کم عرصے قبل پاکستان پہنچنے والے عالمی بینک کے کنسلٹنٹ لورینٹ سینو نے کہا کہ چوکس رہ کر ہی محفوظ رہا جا سکتا ہے، خطرات عام پاکستانیوں کی جانب سے نہیں بلکہ صرف ٹی ایل پی کی طرف سے لاحق ہیں۔ایک اور فرانسیسی شہری، جنہوں نے اپنا اور کمپنی کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط عائد کی، دو مرتبہ پانچ، پانچ سال کے لیے پاکستان میں رہ چکے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ’چونکہ میں طویل عرصے یہاں مقیم ہوں اس لیے واقعی مجھے خوف محسوس نہیں ہوا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎