Android AppiOS App

کراچی کا ایسا علاقہ جہاں کا کچرا اور مٹی پھینکی نہیں جاتی بلکہ مہنگے داموں میں فروخت کی جاتی ہے؟

  منگل‬‮ 23 فروری‬‮ 2021  |  16:42

صرافہ بازار کے زیورات ہی نہیں بلکہ مٹی بھی سونا ہے، نہ کچرا پھینکا جاتا ہے نا ہی مٹی البتہ فروخت کی جاتی ہے۔جی ہاں ملک بھر میں سونے کے زیورات جہاں بنائے جاتے ہیں وہاں کا کچرا یا مٹی پھینکی نہیں جاتی بلکہ مہنگے دام پر فروخت کی جاتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مٹی کے خریدار اس میں سے سونا نکال لیتے ہیں اور ان کی مہارت ایسی ہوتی ہے کہ یہ مٹی کو

دیکھ کر بتا سکتے ہیں کہ اس میں کتنی مقدار میں سونا موجود ہے۔تو پھر کون ایسی سونا اُگلتی مٹی کو پھینکنا چاہے گا؟ یہ مٹی خریدنے والے نیارے انتہائی محنت اور مہارت سے مٹی اور کچرے سے پہلے ٹاٹ کو جلاتے ہیں اور چھان کر کچرا نکالتے ہیں،

پھر اس میں سہاگہ شورا اور کھڑ شامل کر کے بھٹی میں ڈالتے ہیں۔بعد ازاں گلنے کے بعد اس میں موجود مکس دھاتوں کو کاٹ کر سونا چاندی تانبہ رہ جاتا ہے جسے ریفائن کر کے سونا الگ کر لیا جاتا ہے، یہ جتنا مشکل ہے اتنا ہی اس کام کے کرنے والوں کو مالی فائدے ہیں۔اس عمل میں کئی منفرد چیزیں خاک کے زرات سے سونا نکال لاتی ہیں، شہرِ قائد میں نیارے کا کام کرنے والے کئی دہائیوں سے اس کام سے منسلک ہیں جو مٹی کو دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ اس میں کتنا سونا ہے۔یہ نیارے اپنے تجربے کی بنیاد پر مہنگے داموں مٹی خریدتے ہیں جبکہ نفع نقصان کا پتہ وقت پر ہی چلتا ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎