Android AppiOS App

پچھلےالیکشن میں پی ٹی آئی کو ملک بھر سے جو 10 فیصدووٹ زیادہ ملے تھے وہ کس نے ڈالے تھےاور اگلے الیکشن میں یہ 10 فیصد ووٹ کیوں کاسٹ نہیں ہوں گے ؟ عمران خان کے مستقبل کی خوفناک پیشگوئی کرتے ہوئے شاندار مشورہ دے دیا گیا

  منگل‬‮ 23 فروری‬‮ 2021  |  18:37

نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔19فروری کو دو قومی اور دو صوبائی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو دو حلقوں میں شکست اور ایک میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ سیالکوٹ کے قومی اسمبلی کے حلقہ 75 کے

نتائج الیکشن کمیشن نے روک رکھے ہیں کیونکہ اس حلقے کے 360میں سے 20 پولنگ سٹیشنوں کے نتائج میں الیکشن کمیشن کو ردوبدل کا شبہ ہے۔مسلم لیگ نواز سمیت پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں ضمنی الیکشن میں اس کامیابی پر اطمینان کا اظہار کر نے کا حق رکھتی ہیں۔ یہ کامیابی میاں نواز شریف کی مقبولیت کی وجہ سے ہے یا حکومت کے اقدامات پر عوام نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے‘ اس پر

بحث ہو سکتی ہے ‘ بہرکیف ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں قائم ہونے والے قومی اتحاد کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی گیارہ چھوٹی بڑی سیا سی جماعتیں تحریک انصاف کی حکومت کا مقابلہ کرنے کیلئے جمع ہیں۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ عمران خان کا مقابلہ کرنا کسی ایک سیا سی جماعت کے بس کی بات نہیں اس لئے ان کا اکٹھ پورے ملک میں عمران خان کا مقابلہ کرنے کے لیے جمع ہے۔ مسلم لیگ نواز کے امیدوار کی نوشہرہ سے کامیابی پر کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف سے اس کے گھر کی نشست چھین لی گئی ہے ۔ 2018ء کے انتخابات میں پی کے63 نوشہرہ تین میں تحریک انصاف کا امیدوار کامیاب ہواتھا اور اس کے مقابلے میں مسلم لیگ نواز کے امیدوارکو شکست ہوئی‘ تاہم19 فروری کو اس نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ نواز کے اختیار ولی اکیس ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے محمد عمر کاکا خیل صرف 17 ہزار ووٹ حاصل کر سکے۔

اس ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کا مقابلہ پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار سے تھااور تحریک انصاف کو اس مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔مولانا فضل الرحمن‘ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ان ضمنی انتخابات کے نتائج پروزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ بھی سامنے آ گیا ہے مگر یہ مطالبہ غیر سنجیدگی پر مبنی ہے کیونکہ جمہوری نظام میں وزیر اعظم سے اس طرح کے مطالبات جائز نہیں‘ اپوزیشن رہنما خود بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ 2018ء کے انتخابات میں

نوشہرہ تین کے حلقے میں مسلم لیگ نواز‘ ایم ایم اے‘ پی پی پی اور عوامی نیشنل پارٹی نے مجموعی طور پر34, 269 ووٹ حاصل کئے تھے ‘ جبکہ حالیہ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ نواز کے امیدوار کو21 ہزار کے قریب ووٹ ملے ہیں جبکہ تحریک انصاف کو17 ہزار۔ان ڈھائی برسوں میں مہنگائی کے طوفان کی وجہ سے حکومت کی مقبولیت میں جو کمی آئی ہے اس کے باوجود اتنے ووٹ مل جانا بھی حکومت کی بڑی کامیابی سمجھی جائے ۔جب ہر پندرہ دنوں بعد پٹرول ‘ ڈیزل‘ بجلی اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بڑھیں گی تو پھر عوام سے حمایت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ستم ظریفی دیکھئے کہ ان ضمنی انتخابات سے صرف تین دن پہلے ہر گھر کی بنیادی ضرورت خوردنی تیل تیس روپے فی لٹر مہنگا ہو گیا‘ اب حکمرانوں کو کون بتائے کہ دیہاڑی اور ریڑھی سے کمائی کرنے والے غربا کھانا پکانے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر پائو یا آدھ کلو گھی یا خوردنی تیل خریدتے ہیں

اور جب وہ ایک لٹر تیل یا گھی کا تیس روپے زیا دہ ادا کرتے ہیں تو ان کے کلیجے پر چھریاں چلنے لگتی ہیں۔دوسری جانب پنجاب کا وہ کونسا محکمہ ہے جہاں رشوت کی گرم بازاری نہیں‘ جبکہ پنجاب پولیس امن و امان قائم رکھنے میں نہایت برے طریقے سے نا کام ہو چکی ہے۔ آئے روزجرائم ا ور چوریاں ایک معمول بن چکا ہے۔ اگر کسی کو دیہاڑی اور مزدوری کی رقم گھر لے جانے کا ہی یقین نہ ہو‘ جب وہ اپنے گھر میں سویا ہوا بھی خوفزدہ رہے تو پھر اس کی زبان سے حکمرانوں کیلئے خیر کے کلمات کیسے نکل سکتے ہیں؟ جب تک عمران خان صاحب یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ عوام مہنگائی اور امن و امان میں بہتری کی امیدوں کے بعد سب سے زیا دہ ووٹ اپنے گلی محلے‘ گائوں اور قصبے کے ترقیاتی کاموں کو دیتے ہیں تواس وقت تک ان کی مقبولیت میں بہتری نہیں آ سکتی۔2010 ء سے2018ء تک عوام کا عمران خان صاحب سے جو رومانس تھا اب وہ پہلے جیسا بالکل نہیں رہا اور یہ بھی سچ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں عمران خان صاحب کو دس فیصد کے قریب کامیابی ان ووٹرز کی وجہ سے نصیب ہوئی جو کبھی ووٹ ڈالنے کیلئے گھروں سے نکلے ہی نہیں تھے اور وہ ووٹر اب شاید کسی بھی الیکشن میں دوبارہ ووٹ کاسٹ کرتے نظر نہ آئیں۔وزیر آباد کے حلقے کو ہی لے لیجئے اس حلقے سے تحریک انصاف کے امیدوار چوہدری یوسف اپنی انتخابی مہم اور جلسوں کے دوران ووٹرز سے معذرت کرتے ہی

دیکھے گئے کہ آپ کے حلقے کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں‘ گہرے گڑھوں ‘ جوہڑوں اور نکاسی آب کے مسائل کا اب تک حل نہ ہونا قابل افسوس ہے ۔کاش وزیر آباد کے ترقیاتی کاموں کی جانب کسی نے توجہ دی ہوتی تو تحریک انصاف کو اس نشست پر یہ نتائج دیکھنے کو نہ ملتے۔ 2018ء کے انتخابات میں اس حلقے سے تحریک انصاف کے امیدوار محمد شبیر اکرم نے21079 ووٹ حاصل کئے تھے اور مسلم لیگ نواز کے امیدوار نے59267 ووٹوں سے کامیابی سمیٹی تھی جبکہ حالیہ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ نواز کے امیدوار نے53 ہزار ووٹ حاصل کئے اور تحریک انصاف کے چوہدری یوسف48484 ووٹ حاصل کرسکے۔ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ 2018ء میں اس حلقے میں تحریک انصاف بہتر امیدوار سامنے لے کر آئی تھی۔اس طرح2018ء کے انتخابات کے مقابلے میں تحریک انصاف نے اس حلقے میں پہلے سے 27 ہزار ووٹ زیا دہ لئے ہیں‘ مگر انتخابی نتائج چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ عوام نے حکومت کی غیر مقبولیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔یہ تجویز شاید وزیر اعظم عمران خان صاحب تک نہ پہنچ سکے لیکن حکمران جماعت اگلے عام انتخابات میں پنجاب سے کامیابی سمیٹنے کا خیال رکھتی ہے تو ترقیاتی کاموں کو تیز رفتاری سے شروع کرا یا جائے‘ کیونکہ مقامی سطح پر ترقیاتی کام نہیں ہوں گے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پستے چلے جائیں گے تو انتخابات میں کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ڈسکہ کی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 سے نتائج کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان

نے روک دیا ہے اس لیے اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا ۔2018ء کے انتخابات میں اس حلقے سے تحریک انصاف کے امیدوار کو61727 ووٹ ملے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ نواز کے امیدوار سید افتخار الحسن شاہ101769 ووٹوں سے کامیاب قرار پائے تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ2018ء میں اس حلقے سے تحریک انصاف کے ایک دیرینہ لیکن متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے عثمان عابد نے آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیا اس طرح بھی پی ٹی آئی کے ووٹ تقسیم ہو ئے ‘مگر اب تحریک انصاف کا بودا پن دیکھئے کہ این اے78 کا رزلٹ جن وجوہات کو بنیاد بنا پر روکا گیا ہے قریب قریب ایسی ہی صورتحال پی پی51 وزیر آباد میں سامنے آ چکی ہے کیونکہ یہاں بھی ووٹوں کے کھلے تھیلے سیاسی کارکنوں کے ہاتھوں میں دیکھے گئے ہیں۔ یہ صورتحال بے حد تشویش کا باعث ہے اور بہت بڑی انتظامی غفلت کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ یہ واضح ہے کہ پنجاب کی صوبائی انتظامیہ نے ان ضمنی انتخابات میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں ، اسی کا نتیجہ ہے کہ دو حلقوں کے انتخابات کے دوران یہ بد نظمی دیکھی گئی۔ ان ضمنی انتخابات میں فوج کا پولنگ سٹیشن پر موجود نہ ہونا اب سب کی آنکھیں کھول چکا ہے اس لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے گزارش ہے کہ آئندہ ہر ضمنی الیکشن میں فوج کی تعیناتی لازمی قرار دی جائے ورنہ انتظامی غفلت سے انتخابات عوام کے لیے مصیبت بن جائیں گے

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎