Android AppiOS App

اسٹیبلشمنٹ کا عمران خان کو اقتدار سے الگ کرنے کا فیصلہ! وزیر اعظم کب تک اسمبلیاں تحلیل کر سکتے ہیں؟ سینئر صحافی کی بڑی خبر

  پیر‬‮ 22 فروری‬‮ 2021  |  14:57

سینئر صحافی و تجزیہ کار ہارون الرشید نے دعویٰ کیا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے بعد عمران خان اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ہارون الرشید نے دعویٰ کیا ہے کہ مریم نواز ملک سے باہر جانا چاہتی ہیں لیکن اس پرعمران خان اور اسٹیبلشمنٹ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو جرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز بیرون ملک جانے کی خواہشمند ہیں، انہوں نے کوشش کی اور بات بھی کی اور ان کی سفارش کی گئی کہ انہیں باہر جانے دیا جائے جیسے ان کے والد کو جانے دیا تھا لیکن عمران خان نے اس پر بہت سخت پوزیشن اختار کر لی ہے کہ حکومت جاتی ہے تو جائے مگر مریم نواز کو نہیں جانے دوں گا۔

style="text-align: right;">اس لیے یہ افواہیں بھی پھیلنا شروع ہو گئی ہیں کہ ایم کیو ایم سینیٹ انتخابات میں اپوزیشن کو ووٹ دے گی۔ایم کیو ایم کی اچانک اہمیت بڑھ گئی ہے۔حکومت کا وفد بھی مودبانہ طریقے سے وہاں پر گیا اور ان سے بات کی۔ ہارون الرشید نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کا وفد ان سے ملنے جائے گا۔سارا دن افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی سپورٹ ترک کر دی ہے۔

وہ معاملات سے لا تعلق اور غیر جانبدار ہو گئی ہے،یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ان کی کامیابی کے امکان بڑھ گئے ہیں۔بات ایم کیو ایم پر اٹھ گئی ہے جسے وہ سپورٹ کرے گی۔افر ایم کی ایم یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے گی تو اس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلمشنبٹ نے نہ صرف عمران خان کی حمایت ترک کر دی بلکہ یہ اسے الگ کرنے کا فیصلہ ہو گیا۔اسٹیبلشمنٹ کا رویہ سینیٹ انتخابات سے واضح ہو جائے گا۔اگر یوسف رضا گیلانی جیت گئے تو پھر یہ ایک طرح کا عدم اعتماد ہی ہوگا اس کے بعد عمران خان کو مستعفی ہو جانا چاہئیے،ہو سکتا ہے کہ وہ اسمبلیاں توڑ دیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎