Android AppiOS App

واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی قبول نہ کرنیوالوں کیساتھ کیا ہوگا؟ اہم اعلان سامنے آگیا

  پیر‬‮ 22 فروری‬‮ 2021  |  18:45

15 مئی سے لاگو ہونے والی نئی واٹس ایپ پالیسی کو تسلیم نہ کرنے والے صارفین کو کیا مشکلات پیش آئیں گی؟ٹیکنالوجی کی دنیا سے خبریں دینے والے ادارے ٹیک کرنچ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ واٹس ایپ نے اپنے ایک مرچنٹ پارٹنر کو بھیجی گئی ای میل میں بتایا ہے کہ کمپنی اپنی نئی پالیسی تسلیم نہ کرنے والے صارفین سے ‘بتدریج’ نئی شراط کو ماننے کا مطالبہ کرے گی۔واٹس ایپ کی

نئی پالیسی کا اطلاق 15 مئی2021 سے ہوگا۔ کمپنی کے مطالبے کے باوجود بھی صارفین کی جانب سے اگر نئی پالیسی کو تسلیم نہ کیا گیا تو مختصر مدت کے لیے وہ افراد کالز اور نوٹیفکیشن تو موصول کرسکیں گے مگر ایپ میں میسجز بھیج یا پڑھ نہیں سکیں گے۔واٹس ایپ نے

اس قدغن کو لگائے گئے مختصر وقت کے حوالے سے بتایا کہ یہ رکاوٹ کئی ہفتوں کیلئے ہو گی۔ جبکہ غیرمتحرک کیے جانے والے صارفین 15 مئی کے بعد بھی نئی پالیسی یا اپ ڈیٹس کو قبول کرسکیں گے۔اس سے قبل یہ پالیسی کو 8 فروری 2021 سے نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور صارفین کو خبردار کیا گیا تھا کہ انہیں اسے لازمی قبول کرنا ہوگا، بصورت دیگر ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے جائیں گے۔دوسری جانب اس نئی پرائیویسی پالیسی کی بات کی جائے تو اس کو تسلیم کرنے کی صورت میں ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا اور فیس بک کی سروسز کو استعمال کر کے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور مینیج کر سکیں گے جبکہ فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ کو اپنی دیگر سروسز سے منسلک کیا جاسکے گا۔اس حوالے سے واٹس ایپ انتظامیہ نے وضاحت بھی کی تھی کہ وہ صارفین کے میسجز اور کالز ڈیٹا کو نہ تو فروخت کریں گے اور نہ ہی اس تک ان کی رسائی ہے۔ کمپنی نے 16 جنوری کو اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کے فیصلے کو مؤخر کرتے ہوئے عوام کو پالیسی پر آرام سے نظرثانی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اس پالیسی کو 15 مئی تک موخر کر دیا تھا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎