Android AppiOS App

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ! بڑا حکم جاری کر دیا، ہلچل مچا دی

  بدھ‬‮ 17 فروری‬‮ 2021  |  19:31

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے بڑافیصلہ کرلیا، زیر التوا کیسز پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے سالہا سال سے زیر التواء ہزاروں مقدمات کا آئندہ ڈیڑھ ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس محمد قاسم خان نے اس معاملے پر ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے سیشن ججز کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ دو ہزار سولہ تک کے زیر التوا تمام سول و سیشن مقدمات اکتیس مارچ تک نمٹائے جائے،ضلعی عدلیہ میں 2016 تک کے زیر التواء تمام سول و سیشن مقدمات کو 31 مارچ تک نمٹانے کا حکم جاری کردیا۔

اعدادوشمار کے مطابق لاہور کی ضلعی عدالتوں میں2016 تک کے 2 ہزار30 سیشن مقدمات زیر التواء ہیں۔ لاہور میں پرانے سول مقدمات کی تعداد 37 ہزار728

ہے،فیصل آباد میں پانچ سال پرانے سیشن و سول مقدمات کی تعداد190 اور چھ ہزار490 ہے،گوجرانوالہ کی ضلعی عدالتوں میں پانچ سال پرانے سول مقدمات کی تعداد تین ہزار سے زائد ہے جبکہ دو سو سے زائد سیشن مقدمات بھی زیر التواءہیں۔

ملتان کی ضلعی عدالتوں میں 257سیشن اور 7 ہزار کے قریب سول مقدمات زیر التوا ہیں، راولپنڈی کی ضلعی عدالتوں میں2016 تک کے آٹھ ہزار سے زائد سول مقدمات جبکہ 145 سیشن مقدمات زیرالتوا ہیں،اعدادو شمار کے مطابق شیخوپورہ کی سو ل عدالتوں میں پانچ سال پرانے سول مقدمات کی تعداد1 ہزار635ہے۔ رحیم یار خان میں1 ہزار653 اوربہاولپور میں 17 سو سے زائد سول مقدمات زیر التواءہیں۔

مراسلے میں ہدایت کی گئی کہ تمام سیشن ججز فاضل چیف جسٹس کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور مقدمات کی ہفتہ وار پراگرس رپورٹ بھی بھیجیں۔ جسٹس محمد قاسم خان نے چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے گذشتہ سال 19مارچ کو حلف اٹھایا تو سب سے پہلے تین نکات پر کام شروع کیا۔ جن میں سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی کو عملی طور پر یقینی بنانا، وکلا کی فلاح و بہبود کیلئے عملی اقدامات کرنا، اور عدالت عالیہ اور ماتحت عدالتو ں میں ججز کی شفاف تقرریاں کرنا تھا،پاکستان کے 84فیصد زیر التوا مقدمات صرف صوبہ پنجاب کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور 16فیصد دیگر صوبوں میں زیر سماعت ہیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎