Android AppiOS App

آپ کے 6 غم اور ان کا علاج ورنہ یہ غم آپ کو ہلاک کردیں گے۔

  منگل‬‮ 16 فروری‬‮ 2021  |  15:14

مومن کو اس دنیا میں چھ قسم کے غم لگے ہوتے ہیں ہر مومن کو اس دنیا میں چھ قسم کے غم لگے ہوتے ہیں پہلا ہے اہل و عیال ذکر سے غافل نہ کردے تو چھ غم ہر مومن کے لئے ہیں دنیا میں پہلا غم اہل و عیال ذکر سے غافل نہ کردے دوسرا غم دنیا آخرت سے غافل نہ کردے تیسرا غم کہ شیطان اعمال کو باطل نہ کردے اور چوتھا غم کہ کراماً کاتبین نافرمانی نہ لکھ لیں چنانچہ انسان جو بھی گناہ کرتا ہے ان گناہوں کو اسی وقت لکھنے والے

فرشتے لکھ لیتے ہیں ان علیکم لحافظین کراما کاتبین یعلمون ماتفعلون تو ہمارے اوپر محافظ متعین ہیں جو گناہ کرتے ہیں وہ فرشتے لکھ لیتے ہیں تو مومن کو ہر وقت

یہ فکر ہوتی ہے چنانچہ اللہ والے ہر وقت یہ سوچتے ہیں کہ کوئی ایسا عمل نہ ہو کہ فرشتے نامہ اعمال میں گناہ لکھ لیں امام ربانی مجدد الفِ ثانی ؒ فرماتے ہیں اس امت میں ایسی پاک باز ہستیاں گزری ہیں کہ ان کے گناہ لکھنے والے فرشتے کو بیس سال تک گناہ لکھنے کا موقع نہیں ملا اللہ اکبر کبیرا چنانچہ عبداللہ ابن مبارک ؒ مشہور محدث ہیں

انہوں نے ایک واقعہ لکھا المراۃ متکلمۃ بالقرآن جو صرف قرآن مجید کے الفاظ سے ہی گفتگو کرتی تھی وہ کہتے ہیں کہ میں حج عمرے سے فارغ ہو کر واپس آرہا تھا ایک درخت کے نیچے میں دوپہر کو قیلولہ کرنے کے لئے لیٹ گیا تھکا ہوا تھا جب میں اٹھا تو میں نے دیکھا کہ اونٹ پر سوار کوئی سوار کوئی سواری قریب آرہی ہے قریب آنے پر میں نے کہا السلام علیکم تو جواب میں ایک بڑی عمر کی عورت بولی اور اس نے کہا سلام قولا من الرب الرحیم گویا اس نے میرے سلام کا جواب دے دیا میں نے پوچھا کہ بڑی اماں آپ یہاں اکیلی کیسے آگئیں اس نے قرآن کی آیت پڑھی ومن یضلل اللہ فلا ھادی لہ میں سمجھ گیا کہ یہ راستہ بھول گئی ہے اور اب اس کو راستے کی تلاش ہے میں نے پوچھا کہ اماں آپ کدھر سے آرہی ہیں کہنے لگی واتم الحج والعمرۃ للہ میں سمجھ گیا کہ یہ حج عمرہ کرنے کے بعد واپس آرہی ہے میں نے پوچھا اماں آپ نے جانا کدھر ہے

اس نے کہا ادخل المصر انشاء اللہ آمنین تو میں سمجھ گیا یہ شہر جانا چاہتی ہے

میں نے بھی شہر جاناتھا میں نے کہا کہ اماں آپ چلیں میں آپ کے اونٹ کی نکیل پکڑ لیتا ہوں اور آپ کو میں شہر تک پہنچا دیتا ہوں کہنے لگی ان احسنتم احسنتم لانفسکم میں سمجھ گیا کہ بھئی اس نے مجھے دعا دی ہے میں چل پڑا اب راستے میں چونکہ راستہ کچھ لمبا تھا تو مجھے عربی کے کچھ اشعار آتے تھے میں نے وہ پڑھنے شروع کر دیئے جب میں نے وہ پڑھے تو اس عورت نے کہا فقرؤ ماتیسر من القرآن کہ بھئی اگر تم نے کچھ پڑھنا ہی ہے تو قرآن مجید میں سے کچھ پڑھ لو کہنے لگے میں نے پھر قرآن کی تلاوت شروع کردی جب شہر کے قریب پہنچے تو میں نے اس سے پوچھا اماں اس شہر میں آپ کا کون ہے اس نے قرآن کی آیت پڑھی المال وبنون زینت الحیوٰۃ الدنیا تو میں سمجھ گیا کہ اس کے بیٹے ہیں تو میں نے پوچھا کہ آپ کے بیٹوں کے کیا نام ہیں اس نے قرآن کی آیت پڑھی ابراہیم واسماعیل واسحق ویعقوب تو مجھے پتہ چل گیا

کہ اس کے یہ چار بیٹے ہیں تو میں نے اس جگہ پہنچ کر جہاں قافلے اترتے تھے ان بچوں کا نام لے کر آواز لگائی تو میں نے دیکھا کہ چار نوجوان بچے جن کے چہروں پر نیکی کا نور تھا بہت منور چہرے تھے تقویٰ نظر آتا تھا ان کی زندگی میں اتباع سنت نظر آتی تھی وہ اس کے بیٹے تھے وہ چاروں کے چاروں آگئے وہ اپنی والدہ کو ڈھونڈتے پھررہے تھے اور فکر مند تھے کہ والدہ کی سواری کہاں رہ گئی والدہ کو ملے سواری انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اب ان کی والدہ نے ان کو کہا کہ قرآن مجید کی آیت پڑھ کر کہا کہ ویطعمون الطعام یعنی بچوں کو یہ کہا کہ یہ جو شخص مجھے لے کر آیا ہے کہ اس کو کھانا کھلا کر بھیجو تو بچوں کے پاس کھانا تھا انہوں نے فورا دستر خوان لگایا اور انہوں نے مجھے کھانا کھلایا میں کھانا کھا کر اٹھنے لگا تو میں نے ان کا شکریہ ادا کیا تو عورت نے آیت پڑھی انما نطعمکم لوجہ اللہ لانرید منکم جزاء و لا شکورا ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎