Android AppiOS App

ایک ووٹ کی قیمت 50 سے 70 کروڑ! سب سے زیادہ مال کس سیاستدان نے بنا لیا؟ عمران خان نے ایک اور انکشاف کر دیا ، بڑا نام بے نقاب

  بدھ‬‮ 10 فروری‬‮ 2021  |  18:55

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج نہیں کئی دفعہ پہلےبھی مجھےپیسوں کے عوض سینیٹ کی سیٹ بیچنےکی آفرہوئی،براہ راست اور ان ڈائریکٹ سینیٹ کی سیٹ بیچنے کیلئے رابطے کیے گئے،بلوچستان میں سینیٹ کےایک ووٹ کی قیمت 50سے 70کروڑ لگ رہی ہے، ووٹوں کی خریدوفروخت میں سب سےزیادہ مال مولانافضل

الرحمان نے بنایا۔ کلرسیداں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ اصل ایشو یہ ہے کہ کیا اس موجودہ سسٹم کے تحت الیکشن ہونا چاہیے یا نہیں،مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی چارٹرآف ڈیموکریسی میں اوپن بیلٹ کا معاہدہ کرچکی ہیں لیکن اب وہ پیچھے ہٹ رہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ سوال یہ نہیں کہ ویڈیو کی ٹائمنگ کیا ہے بلکہ یاد رکھیں اوپن بیلٹنگ نہ ہوئی تو اپوزیشن والے روئیں گے سیکریٹ ووٹنگ پر

حکومت کو اپوزیشن سے زیادہ سیٹیں مل سکتی ہیں ، سینیٹ کی ایک سیٹ کا ریٹ پچاس سے ستر کروڑ ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ویڈیو اگرمیرے پاس ہوتی تو میںمقدمات بنا کر اسے عدالت میں خود پیش کرتا ۔انہوں نے کہاکہ پہلے بھی سینیٹ کی سیٹ بیچنے کیلئے مجھ سے ڈائریکٹ ان ڈائریکٹ رابطے کیے گئے اوریہ کیسے ممکن ہے کہ پیسہ لگا کر سینیٹر بننے والا پیسہ نہیں بنائے گا ؟قبل ازیںراولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ مستحقین کو گھر روز گار کے مواقع فراہم کررہے ہیں نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم پر کام شروع ہو چکا ہے، یہ سکیم مزدور اور محنت کش طبقے کیلئے ہے جو لوگ بے گھر ہیں ان کو گھر فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ پیسے کی تقسیم میں شفایت پر احساس پروگرام کی ٹیم کو کریڈٹ جاتا ہے آبادی کے لحاظ سے سندھ میں میرٹ کی بنیاد پر پیسہ تقسیم کیا گیا ہم آج سے ستر لاکھ خاندانوں میں پیسہ تقسیم کرینگے پسند نا پسند یا سیاسی بنیادی پر رقم تقسیم نہیں ہو گی حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کی مدد اور بنیادی ضروریات پوری کی جائے ۔

انہوں نے کہاکہ اخوت کے ساتھ ملکر غریب لوگوں کو گھر فراہم کرنے میں مدد کررہے ہیں اور مستحقین کو بلا سود قرضے فراہم کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ احساس پروگرام میں رقم کی تقسیم غیر منصفانہ طورپر کی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ مستحقین کو ہیلتھ کارڈز کی بھی سہولت فراہم کی جارہی ہے جس پر ساڑھے سات لاکھ تک مفت علاج کراسکیں گے ۔

انہوں

نے کہاکہ یہ ہم کسی پر کوئی احسان نہیں کررہے ہیں بلکہ حکومت کا فرض اور ذمہ داری ہے کہ وہ غریب اور پسماندہ طبقے کو اوپر اٹھائے اور کاروبار کرنے کیلئے ان کی مدد کرے تاکہ وہ روز گار کما سکیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت 70لاکھ خاندانوں میں رقوم کی تقسیم شروع کررہی ہے ۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎