Android AppiOS App

احساس پروگرام میں پیسوں کی تقسیم ۔۔۔وزیراعظم عمران خان نے بڑا دعویٰ کردیا،عوام خوشی سے نہال

  بدھ‬‮ 10 فروری‬‮ 2021  |  16:36

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے احساس پروگرام میں پیسوں کی تقسیم سیاسی بنیادوں یا منصفانہ طریقے سے نہیں کی، یہ ثانیہ نشتر کی ٹیم کو کریڈٹ جاتا ہے کہ کہیں سے یہ آواز نہیں آئی کہ پیسے کی تقسیم غیرمنصفانہ تھی۔راولپنڈی میں احساس کفالت پروگرام کے دوسرے مرحلے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران

خان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ پروگرام غریب لوگوں پر احسان نہیں بلکہ حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے اس طبقے کو جو کمزور ہے اس کی حمایت کریں، ان کی مدد کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو ایک صحت کارڈ دیں گے، جس کا مطلب آپ ساڑھے 7 لاکھ روپے تک کسی بھی ہسپتال میں علاج کروانا

چاہیں گے تو وہ مفت ہوگا لیکن اس کے علاوہ ہم ایک اور پروگرام کر رہے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم مزدوروں کے لیے ہے جو کبھی اپنا گھر نہیں خرید سکتے، ہم ایک نیا ایسا سسٹم لارہے ہیں کہ بجائے کرایہ دینے کے وہی رقم قسطوں میں چلا جائے گا اور گھر آپ کا ہوجائے گا، اس کے لیے بھی ہم کوشش کر رہے ہیں، اس کے علاوہ ہم اخوت کے ساتھ مل کام کر رہے ہیں اور انہیں ساڑھے 3 ارب روپے دے چکے ہیں اور آگے 10 ارب روپے دیں گے تاکہ مستحق لوگوں کو وہ بغیر سود کے قرضے دیں۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ

اس کے علاوہ ہم آپ کو اپنے کاروبار کرنے کے لیے مدد کریں گے، جس کے بارے میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر آگاہ کریں گی۔اپنی گفتگو کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ احساس پروگرام کے تحت 12 ہزار روپے مستحق لوگوں کو جائیں کیونکہ ہم نے ایسی فہرستیں دیکھی ہیں جس میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو مستحق نہیں تھے، ان کی پہلے نوکریاں تھی، 8 لاکھ 20 ہزار سرکاری ملازم تھے انہیں نکالا جبکہ اب 30 ہزار ایسے لوگوں کو نکالا جو مستحق نہیں تھے کیونکہ ہماری کوشش ہے کہ یہ رقم صرف مستحق افراد کو جائے۔اس موقع پر انہوں نے لبنان کے حوالے سے کہا کہ وہاں لوگ سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کر رہے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ کورونا کے دوران سیاسی بنیادوں پر رقم تقسیم کی گئی اور یہ منصفانہ تقسیم

نہیں تھی۔تاہم انہوں نے کہا کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے احساس پروگرام میں پیسوں کی تقسیم سیاسی بنیادوں یا منصفانہ طریقے سے نہیں کی، یہ ثانیہ نشتر کی ٹیم کو کریڈٹ جاتا ہے کہ کہیں سے یہ آواز نہیں آئی کہ پیسے کی تقسیم غیرمنصفانہ تھی بلکہ سندھ کی آبادی کے حساب سے ہم نے زیادہ پیسہ سندھ میں دیا، حالانکہ ہماری وہاں حکومت نہیں تاہم ہم نے میرٹ کی بنیاد پر یہ کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم آج سے اس کا دوسرا مرحلہ شروع کر رہے ہیں جس میں 70 لاکھ خاندانوں میں ہم آج سے پیسے بانٹنا شروع کر رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ اس کی منصفانہ تقسیم ہو اور سیاسی بنیادوں یا من پسندوں کو پیسہ نہیں بانٹا جائے گا۔آخر میں وزیراعظم نے یقین دلایا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ کی مدد کی جائے اور ذمہ داری پوری کی جائے، یہ احساس پروگرام بڑھتا جائے گا اور ہم مزید چیزیں لائیں گے اور ہم تعلیم کے حوالے سے بھی توجہ دے رہے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے بچے بھی بڑے عہدوں کو پہنچ سکیں اور خیال رکھ سکیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎