Android AppiOS App

امیدیں ہی ٹوٹ گئیں!حامد میر اور سلیم صافی نے کیا قدم اُٹھا لیا؟ اب پاکستانی کس کا یقین کریں؟

  بدھ‬‮ 3 فروری‬‮ 2021  |  12:52

حامد میر اور سلیم صافی کی امیدیں ٹوٹ گئیں؟ پی ڈی ایم سے امیدیں لگانے والوں سے متعلق کامران خان کا بھی تبصرہ.سینئر صحافی اور اینکر پرسن کامران خان نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ سال ستمبر سے عوام کو ایک ہی بات سمجھا رہے تھے کہ اپوزیشن

کی حکومت مخالف تحریک کو سنجیدہ نہ لے کیونکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں۔کامران خان نے مزید کہا کہ وہ اس ساری صورتحال اور اپوزیشن کی تحریک کو دیکھتے اور جب پی ڈی ایم رہنماؤں کے عوام کے سامنے بیانات سنتے تو انہیں ہنسی آتی تھی۔کامران خان نے اپنے ٹوئٹ میں دو سینئر صحافیوں حامد میر اور

سلیم صافی کے ٹوئٹر پیغامات کا حوالہ بھی دیا۔ یہ دونوں وہ موصوف ہیں جن کو پی ڈی ایم کی تحریک سے کچھ زیادہ ہی امیدیں تھیں جو کہ 31 جنوری کو استعفوں کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کے بعد دم توڑ گئی ہیں۔حامد میر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ پی ڈی ایم نے 31 جنوری تک وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا آج 31 جنوری ہے اور پی ڈی ایم استعفے کو بھول کر براڈ شیٹ اور فارن فنڈنگ کی بات کر رہی ہے پچھلے دو ماہ میں ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ نواز شریف اور مولانا دونوں کا لب و لہجہ بدل گیا ہے

اب اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں۔ان کے علاوہ سلیم صافی کا جو ٹوئٹ کامران خان نے شیئر کیا اس میں ان کا کہنا ہے کہ آج کے بعد بلاول بھٹو اور اپوزیشن کے دیگر اراکین اسمبلی اسی طرح سر جھکا کر ایوان میں جائیں گےجس طرح دھرنوں اوراستعفوں کے بعد عمران خان اور اسد عمر وغیرہ سر جھکا کر اسمبلی میں واپس گئے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ خواجہ آصف کی طرح آج پی ٹی آئی والوں کے پاس جواز ہے کہ وہ انہیں طعنہ دیں کہ کوئی شرم ہوتی ہے،کوئی حیا ہوتی ہے۔ان دونوں صحافیوں کے ٹوئٹس کا حوالہ دینا کوئی عام بات نہیں دراصل یہ دونوں وہ ہیں جو موجودہ حکومت کی مخالفت میں ہر غلط بات پر بھی پی ڈی ایم کے حمایتی ہوا کرتے تھے مگر اب انہیں اصلیت نظر آ گئی ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎