Android AppiOS App

سیٹھ عابد نے کون سا طریقہ استعمال کرکے اپنا سونےکاکاروبار ایک چھوٹی سی دوکان سے پانچ ملکوں تک پھیلا دیا تھا جان کر آپ بھی کہیں گے، 50کی دہائی میں بھی ایسے لوگ تھے؟

  بدھ‬‮ 13 جنوری‬‮ 2021  |  14:05

سیٹھ عابد کےوالد نے1950میں کراچی میں سونے کا کاروبار شروع کیا۔ اپنے والد کے ساتھ کاروبارسنبھالتے ہی سیٹھ عابد نےسم گل نگ کو اپنے لیے جائز سمجھتے ہوئےیہ سوچ لیا تھاکہ انھیں ایک دوکان تک محدود نہیں رہنا، بلکہ سرحدیں پار کرنی ہیں۔جس کےلئے انھوںنےمکمل پلان تیارکیا۔انھوںنے کراچی کے ایک ایسے ماہی

گیرکی خدمات حاصل کیں، جو دبئی سے سونا سم گل کرکے لاتا تھا۔ ادھر سیٹھ عابد نے اپنے آبائی علاقے قصور اور سرحد ی علاقوں میں مقیم گھرکی ،دیال اور اعوان برادری کے لوگوں کو سونے کی سم گل نگ کی ایک فرنچائزدے ڈالی۔یوں سیٹھ عابد کانیٹ ورک دبئی سے کراچی، کراچی سےپنجاب کے سرحدی علاقوں اور وہاں سے دلی تک پھیل گیا۔سیٹھ عابد نے اپنے راستے کی رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے حکومتی شخصیات

اور کئی اداروں کے افسران سے بھی میل ملاپ کر لیا۔ ۔دبئی میں سیٹھ عابد کے بہنوئی حاجی اشرف نے اس نیٹ ورک کو سنبھالا ہوا تھا۔ دبئی سے کراچی سم گل نگ کاکام قاسم بھٹی نامی ایک ماہی گیر کرتا تھا،اور ادھر پنجاب سے سونا دلی سم گل کرنے کا کام حاجی اشرف کاداماد غلام سرور کرتا تھا جو دلی کے سونے کے مشہور تاجر ہربنس لال سے قریبی تعلقات قائم کیے ہوئے تھا۔جبکہ برٹش ائیر ویز میں کام کرنے والا ایک ملازم چارلس میلونی سونالندن پہنچانے میں ایک

سہولت کار کا کام کرتا رہایوں یہ نیٹ ورک برطانیہ تک پہنچ گیا۔ ہر سا ل حج پر جانے والے سیٹھ عابد نے سعودی عرب میں بھی وہاں کے شیخ آپریٹرز کے ساتھ معاملات آگے بڑھا لیے۔اس سارے سلسلے میں سیٹھ عابد کو مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ہندوستانی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے 1963میں ایک خبر شائع کی جس کے الفاظ تھےپاکستان کے ’گولڈ کنگ‘ کے انڈیا میں ’روابط‘ ہیں جبکہ ان کے بہنوئی کو دلی میں سونے کی 44 اینٹوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔دوسری جانب سیٹھ عابد دہلی، لاہور، کراچی،دوبئی اور لندن میں اپنے کاروبار کی وجہ سے پاکستان کی دولت مند ترین شخصیات میں شمارہونے لگ گئے تھے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎