Android AppiOS App

جہاز کو حادثہ کیسے ہوا؟۔۔۔انڈونیشیا کے تباہ ہونے والے مسافر طیارے سے متعلق حیران کن انکشاف

  منگل‬‮ 12 جنوری‬‮ 2021  |  18:10

سمندر میں گرنے والے انڈونیشین طیارہ سے متعلق نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔تفصیلات کے مطابق تباہ طیارے کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اسے گزشتہ ماہ ہی انسپیکشن کے بعد کلیئر کیا گیا تھا۔برطانوی میڈیا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ انڈونیشین ائیرلائن کمپنی سری وجائیا کی پرواز ایس جے 182 کو گزشتہ برس مارچ سے

دسمبر کے درمیان گراؤنڈ کیا گیا تھا جس کی کمرشل پروازیں گزشتہ ماہ ہی 22 دسمبر سے بحال کی گئیں۔تاہم طیارہ حادثے میں اب تک جہاز کے تباہ ہونے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے البتہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تباہ ہونے سے پہلے بھی جہاز مکمل طور پر فنکشنل تھا۔انڈونیشیا کی پولیس نے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والی ایک خاتون

کی شناخت کی جو اسی پرواز کی 29 سالہ فلائٹ اٹینڈنٹ ہے۔انڈونیشیا کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق اب تک کی تحقیقات میں پتہ چلا ہےکہ جہاز مقامی وقت کے مطابق 2 بج کر 36 منٹ پر 10900 فٹ کی بلندی تک گیا جس کے بعد انتہائی تیزی سے رخ بدلتے ہوئے 2 بج کر 40 منٹ پر

ہی ٹرانسمیٹنگ ڈیٹا بند ہونے سے قبل 250 فٹ کی بلندی تک آگیا۔کمیٹی نے بتایا کہ جہاز کی ٹربائن ڈسک اور ٹوٹے ہوئے پنکھے کے پر بھی مل چکےہیں جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جہاز فضا میں دھماکے سے تباہ نہیں ہوا جب کہ پنکھے کے پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب جہاز تباہ ہوا اس وقت بھی مکمل طور پر فنکشنل تھا جس سے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ 250 فٹ کی بلندی تک آنے کے باوجود جہاز کا سسٹم پوری طرح کام کر رہا تھا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎