Android AppiOS App

WHATSAPP آپ کے فون میں موجود کن کن چیزوں کو دنیا کیساتھ شیئر کرے گا ؟ کن پاکستانیوں کا واٹس ایپ ہمیشہ کیلئے بند کیا جا رہا ہے اور اِس کا حل کیا ہے ؟ لڑکے لڑکیاں محتاط ہو جائیں ، بہت ہی اہم مکمل تفصیلات۔۔

  پیر‬‮ 11 جنوری‬‮ 2021  |  17:22

قارئین پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والی سب سے بڑی موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی کی تبدیلی کی وجہ سے ان دنوں تنقید کے نشانے پر ہے۔ واٹس ایپ کی جانب سے گزشتہ دنوں تمام صارفین کو پرائیوسی پالیسی کے حوالے سے ایک پیغام ارسال کیا گیا جس سے صارفین کو اتفاق کرنا تھا۔ کمپنی کی جانب سے بتایا گیا کہ جو صارف نئی پرائیوسی پالیسی سے اتفاق نہیں کرے گا تو 9 فروری کے بعد اُس کا نمبر

بلاک کردیا جائے گا۔ واٹس ایپ کی نئی پرائیوسی پالیسی پر صارفین نے بہت زیادہ تحفظات کا اظہار کیا کیونکہ اب کمپنی فیس بک اور دیگر تھرڈ پارٹیز کے ساتھ صارف کا تمام اہم ڈیٹا شیئر کرے گی۔واٹس ایپ نے اس پالیسی کے ذریعے صارف سے

اجازت مانگی کہ وہ اُس کی چیٹ، کالز، وائی فائی اور اُس سے جڑنے والے دیگر نمبر، خرید و فروخت سمیت دیگر معلومات فیس بک یا کسی بھی تھرڈ پارٹی کو فراہم کردے۔ صارفین کی جانب سے ڈیٹا کی فراہمی کے معاملے پر واٹس ایپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، جبکہ دو ارب سے زائد لوگوں نے اب متبادل کے طور پر ٹیلی گرام اور سگنل نامی ایپلیکیشنز کو ڈاؤن لوڈ کرنا شروع کردیا ہے۔ ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیلی گرام اور سگنل کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی شرح میں گزشتہ دو روز سے بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ صارفین کی شدید تنقید کے بعد اب واٹس ایپ کے سربراہ ’’ ول کیتھکارٹ ‘‘نے نئی پالیسی کے حوالے سے وضاحت پیش کی اور یقین دہانی کرائی کہ نئی پالیسی سے وہ متاثر نہیں ہوں گے اور نہ ہی اُن کا ڈیٹا کسی کوفراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے ٹوئٹر اپنے تفصیلی بیان میں وضاحت پیش کی جس کو واٹس ایپ کی جانب سے ری ٹویٹ بھی کیا گیا ہے۔ واٹس ایپ کے سربراہ نے لکھا کہ ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے بعد ہم یا فیس بک آپ کے نجی پیغامات یا پھر کالز کا ریکارڈ نہیں دیکھ سکتے، ٹیکنالوجی کی فراہمی کو بہتر بنانے اور عالمی سطح پر اس کے دفاع کے لیے یہ اقدامات کیے گئے ہیں‘۔انہوں نے واٹس ایپ سیکیورٹی کا ایک لنک میں ٹوئٹ میں

شامل کیا جہاں تفصیل کے ساتھ پرائیویسی پالیسی کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے۔کیتھکارٹ نے بتایا کہ ’ہم نے شفافیت کو برقرار رکھنے کے کے پالیسی کو اپ

ڈیٹ کیا ہے، جس کے ذریعے پیپل ٹو بزنس آپشنل فیچرز کی بہتر وضاحت کی گئی ہے، اس پالیسی کو اکتوبر 2020 میں تشکیل دیا گیا جس کے بعد واٹس ایپ میں ای کامرس کو بھی شامل کیا گیا‘۔واٹس ایپ سربراہ نے لکھا کہ ’شاید اس بات کا علم سب کو نہیں کہ متعدد ممالک میں کاروباری اداروں کے واٹس ایپ پیغامات کتنے عام ہیں، روزانہ 17 کروڑ سے زیادہ صارفین کسی ایک بزنس اکاؤنٹ کو پیغام ارسال کرتے ہیں جبکہ متعدد صارفین ایسا کرنا چاہتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا دیگر اداروں کے ساتھ پرائیویسی کا مقابلہ ہے، جو کہ دنیا کے لیے بہت اچھا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے پاس بہترین انتخاب ہونا چاہیے کہ وہ کس طرح اور کس سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں اور انہیں اعتماد ہونا چاہیے کہ ان کی چیٹس کوئی اور نہیں دیکھ سکتا، کچھ لوگ بشمول کچھ ممالک کی حکومتیں اس پالیسی سے متفق نہیں ہیں۔ اگر ہم آپ کو آسان لفظوں میں بتائیں تو واٹس ایپ نے اپنی ایپلی کشن کے استعمال کیلئے پرائیویسی پالیسی میں جو نئی تبدیلیاں کردی ہیں جن کو قبول کرنا صارفین کے لیے لازمی ہے ورنہ ان کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا جائیگا۔فیس بک کی زیر ملکیت کمپنی واٹس ایپ نے صارفین کو نوٹیفیکیشنز بھی بھیج دیے ہیں اور انہیں پالیسی قبول کرنے کیلئے 8 فروری تک کا وقت دیا گیا ہے، بصورت دیگر صارف واٹس ایپ

اکاؤنٹ تک رسائی کھوبیٹھے گا۔ نئی پالیسی کے مطابق واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا نہ صرف استعمال کرے گا بلکہ اسے تھرڈ پارٹی بالخصوص فیس بک کے ساتھ شیئر بھی کریگا۔واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے مطابق صارف اپنا نام، موبائل نمبر، تصویر، اسٹیٹس، فون ماڈل، آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ ڈیوائس کی انفارمیشن، آئی پی ایڈریس، موبائل نیٹ ورک اور لوکیشن بھی واٹس ایپ اور اس سے منسلک دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو مہیا کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ وٹس ایپ ٹرانزیکشن اور پیمنٹ کے نئے فیچر کی انفارمیشن بھی اپنے

پاس رکھے گا۔واٹس ایپ کے مطابق جب صارفین ان سے منسلک تھرڈ پارٹی کی خدمات یا فیس بک کمپنی کی دوسری پراڈکٹس پر انحصارکرتے ہیں، تو تھرڈ پارٹی وہ معلومات حاصل کر سکتی ہے، جو آپ یا دوسرے لوگ ان کے ساتھ شیئرکرتے ہیں۔واٹس ایپ کی نئی پالیسی میں بتایا گیا کہ کاروباری ادارے کس طرح فیس بک کی سروسز کو استعمال کر کے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور مینج کر سکتے ہیں۔واٹس ایپ کے مطابق صارفین کا ڈیٹا اسٹور کرنے کے لیے فیس بک کا عالمی انفراسٹرکچر استعمال کیا جارہا ہے۔صارفین کی جانب سے واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی پر خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے اور واٹس ایپ کے علاوہ دیگر کالنگ اور میسجنگ سروسز کو ڈاؤن لوڈ کرنے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎