Android AppiOS App

اچھا تو اس لئے تدفین کو وزیراعظم کی آمد سے مشرو ط کیا گیا تھا وزیراعظم کے کوئٹہ پہنچتے ہی کن کن خطرناک لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کردیا گیا

  ہفتہ‬‮ 9 جنوری‬‮ 2021  |  21:08

سینئرملکی صحافی اور تجزیہ کار ارشاد عارف کہتے ہیں کہ متاثرین کے مطالبات بالکل جائز تھے۔ انھیں مان لیا گیا ہے۔ میں ایگریمنٹ دیکھ چکا ہوں۔معاہدے میں ڈیمانڈ کی لسٹ کو دیکھا جائے تو شہید تو مزدور ہوئے ہیں لیکن مطالبہ یہ ہے کہ فلاں فلاں کو رہا کیا جائے۔ایک حادثہ ہوا تھا اس میں جو لوگ پکڑے گئے جو دہشت گرد ہیں

ان کی رہائی کا مطالبہ ہو رہا ہے،کوئٹہ میں غیر ملکی موجود ہیں ،انہوں نے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنوا لیے ہیں جن کو حکومت نے بلاک کیاہے ان کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔تربت میں 13 سرائیکی شناختی کارڈ دیکھ کر ماضی میں شہید کیے گئے۔اس کے بعد پنجابی، پشتون بھی شہید کیے گئے لیکن انہوں نے تو لاشیں

رکھ کر احتجاج کیا نہ سڑکیں بلاک کیں۔وزیراعظم نے بلیک میلنگ کا لفظ متاثرین نہیں بلکہ منتظمین کے لیے استعمال کیا ۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎