Android AppiOS App

وزیراعظم عمران خان کا ہزارہ برادری سے متعلق افسوسناک بیان اپوزیشن رہنماں نے وزیراعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا

  جمعہ‬‮ 8 جنوری‬‮ 2021  |  17:14

وزیراعظم عمران خان نے آج کچھ دیر قبل اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران سانحہ مچھ کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کے مطالبات کو غیر آئینی قرار دیا اور شہدا کی تدفین کو وزیراعظم کی آمد سے مشروط کرنے کو بھی نامناسب قرار دیا جس پر انہیں اپوزیشن رہنماں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان کے

اس بیان پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سانحہ مچھ کے متاثرین پر بلیک میلنگ کا الزام شرمناک ہے۔ قوم نہ صرف سلیکٹڈ بلکہ بے رحم ،سنگدل اور نالائق وزیر اعظم کے رحم و کرم پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سانحہ مچھ کے متاثرین کی توہین بند کریں۔عمران خان منتخب

وزیراعظم ہوتے تو دوسرے دن غمزدہ خاندانوں کے پاس جاتے۔سانحہ مچھ کے متاثرین کسی بے رحم اور خود غرض شخص سے انصاف کی امید نہ رکھیں۔ دوسری جانب سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان کے سانحہ مچھ کے متاثرین سے متعلق بیان کی مذمت کی اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا ہزارہ برادری پر بلیک میلنگ کا الزام شرمناک ہے۔ عمران خان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ واقعی کٹھ پتلی ہیں۔ عوام کے ووٹوں سے آنے والے وزیراعظم مظلوموں کے زخموں پر ایسے نمک نہیں چھڑکتے۔ناجائز ، نااہل اور نالائق سیلیکٹڈ اپنے اقتدار میں رہنے کے تمام جواز کھو چکے ہیں۔جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے اس معاملے

پر کہا کہ افسوس کی بات ہیکہ لوگوں کاایک معصوم مطالبہ ہیکہ وزیراعظم کوئٹہ آجائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج حکمران اپنے بھائیوں اورانسانیت کی خاطرایک گھنٹے کیلئے نہیں آسکتے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ عمران خان کو یہ غلط فہمی ہے کہ یہ ل اش یں ایک خاص برادری کی ہیں۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہزارہ برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ آج تدفین کریں آج کوئٹہ پہنچ جاں گا۔انہوں نے کہا کہ تدفین کے لیے وزیراعظم کی آمد کی شرط رکھنا مناسب نہیں، سانحہ مچھ کے متاثرین کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ہزارہ براداری کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئیں گے تو ل اش وں کی تدفین کی جائے گی لیکن کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح سے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔ مچھ میں جب واقعہ ہوا تو وزیر داخلہ کو کوئٹہ بھیجا ،

میں نے دو وفاقی وزرا کو بھی وہاں بھیجا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ آج ہی شہدا کی تدفین کی جائے، گارنٹی دیتا ہوں کہ آج ہی کوئٹہ جاں گا۔ جس کے بعد انہیں اس بیان کی بنیاد پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎