Android AppiOS App

تعلیمی ادارے کھولنے پر طلباء کی جانب سے منفی رد عمل! شفقت محمود نے کیا قدم اُٹھا لیا؟ سوشل میڈیا پر ہلچل

  منگل‬‮ 5 جنوری‬‮ 2021  |  11:26

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ طلباء کی جانب سے منفی ردعمل پر حیرانگی ہوئی ہے، تعلیم بہترمستقبل کے لیے ایک راستہ ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے لکھا کہ مجھے طلباء کی جانب سے اسکول کالج

اور یونیورسٹیاں کھلنے کے فیصلے پر منفی ردعمل آنے پر شدید حیرت ہوئی ہے۔ تعلیم بہتر مستقبل کی جانب ایک راستہ ہے۔ تعلیم کے سال کسی کی بھی زندگی کے یاد گار دن ہوتے ہیں۔ سب کو تعلیم کے موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ سب کو دوستوں سے ملنا چاہیے اور اسکول کھلنے کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے تعلیمی ادارے کھولے جانے کے فیصلے پر سوشل میڈیا

پر طلباء کی جانب سے شفقت محمود کیخلاف منفی ردعمل سامنے آیا تھا۔ سوشل میڈیا پر شفقت محمود کئی گھنٹوں تک ٹاپ ٹرینڈ بنے رہے۔ طلباء نے ان کے حوالے سے میمز بھی شیئر کیں۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے تین مرحلوں میں کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ 18 جنوری کو نویں، دسویں گیارہویں کے تعلیمی ادارے کھل جائیں گے۔ 25 جنوری سے پرائمری سے آٹھویں تک کلاسیں شروع ہوں گی۔تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا گیا۔ 11 جنوری سے آن لائن لرننگ ہو سکتی ہے۔بورڈ امتحانات مئی جون میں ہوں گے۔ یکم فروری سے ہائیر ایجوکیشن کے ادارے کھول دئیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یکم فروری سے جامعات اور دیگر 14 یا 15جنوری کو صحت کی صورتحال کا

دوبارہ معاملے کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کوروبا وبا کتنے کنٹرول میں ہے۔ اس سے قبل ملک میں تعلیمی ادارے 11 کی بجائے 25 جنوری کو کھول دیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا تھا،اسکولوں کو مرحلہ وار کھولنے کی تجاویز بھی دی گئی تھیں۔ 25 جنوری سے پہلے مرحلے میں صرف پرائمری اسکول کھولنے، دوسرے مرحلے میں مڈل اور سیکنڈری اسکولز اور تیسرے مرحلے میں اعلیٰ تعلیمی ادارے کھولنے کی تجویز دی گئی تھی۔ آج 4 جنوری کے اجلاس میں ان تجاویز پر مشاورت کیے جانے کے بعد نویں جماعت سے بارہویں تک سکولز 11 جنوری سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎