Android AppiOS App

آج مجھے الیکشن میں ووٹ ڈالنا پڑے تو رؤف کلاسرا کا حیران کُن اعلان

  پیر‬‮ 4 جنوری‬‮ 2021  |  11:57

نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔حیران ہوتا ہوں کہ آج مجھے الیکشن میں ووٹ ڈالنا پڑے تو کیا کوئی ایسی پارٹی بچ گئی ہے جس کے بارے میں کہہ سکوں کہ اس کی آئیڈیالوجی ہے‘ اس کا کردار ہے اور یہ دوسروں سے مختلف ہے‘ اس کا اپنا نظریہ ہے اور یہ ان نظریات پر سودا کرنے کو تیار

نہیں۔ کالج سے یونیورسٹی دور تک دیکھا کہ ان سیاسی جماعتوں کے سٹوڈنٹ ونگز ہوتے تھے جو اپنے اپنے نظریات پر قائم تھے۔ پیپلز پارٹی‘ جماعت اسلامی‘ مسلم لیگ‘ جمعیت علمائے اسلام‘ اے این ایف‘ بلیک ایگلز یہ سب اپنے اپنے نظریات کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ہمارے جیسے طالب علموں کیلئے بڑا آسان تھا کہ ہم خود کو رائٹ یا لیفٹ

پر کہاں ایزی محسوس کرتے ہیں اور کس گروپ کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا یا ان کی میٹنگز اٹینڈ کرنا ہمیں اچھا لگتا تھا۔ جیسے بھی تھے 80ء اور 90 ء کے عشرے اس حوالے سے تو بہتر تھے کہ لوگ ابھی اپنے اپنے نظریات اور سیاسی خیالات پر زندگیاں گزار رہے تھے۔ انہیں اپنی سیاسی جماعتوں سے کوئی مالی فوائد نہیں چاہئیں تھے۔سیاسی ورکرز محض اُن نظریات کیلئے ق ی د جانے اور س زائ یں بھگتنے کو تیار تھا جسے وہ

درست سمجھتا تھا۔ مجھے یاد ہے میرا کروڑ لیہ کا مرحوم دوست بندو خان پیپلز پارٹی کا جیالا تھا اور کہیں بھی‘ پاکستان کے کسی کونے میں جلسہ جلوس ہوتا تووہ اپنا ہوٹل بند کر کے وہاں پہنچ جاتا۔ سار سال جو کماتا وہ کرایوں پر خرچ کردیتا۔ پہلے ہوٹل بند ہوا اور پھر بندو خان رُل گیا‘اس کے بچے بھی رُل گئے لیکن بندو خان مرتے دم تک پارٹی کے ساتھ بندھا رہا۔ اسی طرح مجھے یاد ہے کہ لیہ کالج میں میرا کلاس فیلو اور روم میٹ کبریا خان ہمیں گھنٹوں پیپلز پارٹی کے فوائد پر لیکچر دیتا تھا‘ جبکہ ہمارا ایک اور روم میٹ ضیا الحق اور مسلم لیگ کا دیوانہ تھا۔ ذوالفقار سرگانی اور میں اپنے ان روم میٹس کی باتیں سنتے اور آخر میں ذوالفقار سرگانی اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے مجھے کہتا :کرنے دے ان دونوں کو بحث‘ ہمیں ان سے کیا لینا دینا ہے‘ مہرصاحب۔لیہ کالج میں الیکشن ہوئے تو پی ایس ایف اور ایم ایس ایف میں بڑا دنگل پڑا۔ ہمارا اپنا یار جاوید بلوچ بھی اس چکر میں ایک سال الیکشن جیت گیا۔اب مڑ کر دیکھتا ہوں

تو حیران ہوتا ہوں کہ ہم واقعی سٹوڈنٹ لائف میں کچھ نظریات رکھتے تھے اور ان پر اچھے برے کا فیصلہ کرتے تھے۔ لیہ کالج اور ملتان یونیورسٹی کے ہوسٹلز میں کینٹین پر بیٹھ کر رات گئے ان نظریات پر گھنٹوں دوست بحث کرتے تھے۔آج اُن دنوں کو مِس کرتا ہوں جب ہم کسی کے

نظریاتی مخالف تھے تو کوئی ہمارا مخالف تھا۔ کبھی سوچتا ہوں کہ بہتر ہوتا کہ ضیا الحق اور پرویز مشرف کے مارشل لا جاری رہتے‘ کم از کم ان لوگوں کا بھرم تو ہم پر قائم رہتا جنہیں ہم سیاستدان مانتے تھے‘ جن کی عزت کرتے تھے کہ یہ لوگ اور پارٹیاں زندگی میں کسی نظریے اور سوچ کیلئے کھڑے تھے۔جو لوگ بینظیر بھٹو کی 1986 ء میں وطن واپسی پر خوشی اور جوش سے بے حال تھے وہ دھیرے دھیرے مایوس ہوتے چلے گئے۔ رہی سہی کسر زرداری صاحب نے نکال دی جن کا خیال تھا کہ جو کچھ ہے وہ پیسہ ہے‘ نظریات‘ اصول اور عزتِ نفس یہ سب ناکام لوگوں کے بہانے ہیں‘ کامیاب لوگ بھلا کب ان صفات کو اپنی راہ میں حائل ہونے دیتے ہیں۔ زرداری ماڈل نے سب کا بیڑا غرق کیا۔ مفاہمت کے نام پر سب مل بیٹھے اور پھر سب نے مل کر بانٹنا شروع کیا۔ وہ سیاسی ورکر جو بھٹو کے نام پر موت کو سینے سے لگاتے تھے‘ شاہی قلعہ میں جوانیاں تباہ کرتے تھے وہ بھی اسی چکر میں پڑ گئے کہ اس دیگ میں ہمارا کتنا حصہ ہے اور ہمیں کیا ملے گا؟

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎