Android AppiOS App

سب کچھ کس کے اشارے پر ہو رہا ہے؟

  پیر‬‮ 4 جنوری‬‮ 2021  |  11:45

نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پنجاب میں وزیراعلیٰ بزدار کا سکہ چل رہا ہے، چودھری پرویز الٰہی بدستور اُن سے ناراض ہیں لیکن وزیراعلیٰ بزدار کے مخلص پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشیددن رات صحت کارڈ کی کامیابی کے لئے محنت کر رہے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ وہ اگلے

چند ماہ میں پنجاب کے دو سے تین ڈویژنوں کے لوگوں کو صحت کارڈ دے کر انقلابی اقدام اٹھا لیں گے۔گو حکومت اور اپوزیشن دونوں سسٹم کے فنا اور بقا کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ اپوزیشن کو یقین ہے کہ یہ نظام چل ہی نہیں سکتا، اَسے 5سال چلانا ناممکن ہے، دوسری طرف حکومت کا خیال ہے کہ وہ اِسے 5سال چلائیں گے اور اگلا الیکشن پوری تیاری اور تام جھام سے

لڑیں گے، اسی لئے تو گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے ضلع ساہیوال سے قومی اسمبلی کے ایک حلقے کا انتخاب کر لیا ہے جہاں سے وہ الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اِس حوالے سے اُنہوں نے وزیراعظم عمران خان اور پارٹی قیادت کو بھی اعتماد میں لے لیا ہے۔ ضلع ساہیوال میں زیادہ تر نشستیں ن لیگ نے جیتی ہیں اِس لئے تحریک انصاف نے بھی بخوشی چودھری سرور کو اجازت دے دی ہے۔لانگ مارچ اور استعفوں سے پہلے مذاکرات کا امکان بڑھ رہا ہے۔ تیسرا فریق چاہے گا کہ ملک میں گڑ بڑ نہ ہو۔

لانگ مارچ ہوا تو نہ سیاسی استحکام رہے گا اور نہ معاشی استحکام۔ اجتماعی استعفے ہوئے تو نظام ہی معطل ہو کر رہ جائے گا، ضمنی انتخابات کروانا ناممکن ہوں گے۔ مذاکرات کی پہلی جھلک سینیٹر محمد علی درانی کی شہباز شریف سے قید میں ملاقات میں نظر آئی۔ درانی صاحب گھاگ سیاست کار ہیں، وہ ’’کچے‘‘ پر پائوں نہیں رکھتے، حالات اور امکان کا جائزہ لئے بغیر اُنہوں نے یہ ٹاسک اپنے ذمہ لیا ہوگا، اِس لئے اِس بات کا پورا امکان ہے کہ تیسرے فریق کی طرف سے اِن مذاکرات کی اشیر باد دی گئی ہو۔ اگر اِس مفروضے کو مان لیں تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات شہباز شریف سے ہوں گے اور ظاہر ہے مذاکرات کرنے کے لئے اُنہیں رہا کرنا ہوگا۔ گویا آنے والے دو مہینوں میں تبدیلی ضرور آئے گی، یہ تبدیلی اگر حکومت کی نہ ہوئی تو پالیسی کی ہوگی۔ حزبِ مخالف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی پہلی اینٹ رکھی جا چکی ہے لیکن اِس کی بنیاد بھی لازماً لانگ مارچ

سے فوراً پہلے یا اُس کے ساتھ ہی رکھی جائے گی۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎