Android AppiOS App

استعفے دیئے تو عمران خان صدارتی نظام نافذ کردے گا! نواز شریف اور آصف زرداری کو کیا خطرہ لاحق ہے؟ مولانا بارے بڑا فیصلہ ہوگیا

  جمعہ‬‮ 1 جنوری‬‮ 2021  |  17:40

سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو صدارتی نظام کا خطرہ ہے۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی ثمر عباس کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف آپس میں مکمل رابطے میں ہیں۔دونوں لیڈر استعفوں کے معاملے پر بھی حکمت عملی مل کر طے

کر رہے ہیں۔میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری یہ سمجھتے ہیں اور مولانا کو بھی یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر ہم نے قومی اسمبلی کے اندر استعفے دے دئے، پلیٹ فارم خالی کر دیا تو پھر ضمنی الیکشن کے بعد عمران خان کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی۔ وہ نہ صرف اٹھارویں ترمیم کے کچھ حصوں کو رول بیک کرنے کی کوشش کریں گے بلکہ این ایف سی ایوارڈ

میں بھی صوبوں کا شئیر کم کیا جائے گا۔ اور سب سے بڑی اور خطرناک بات جس کا خدشہ زیادہ آصف علی زرداری صاحب کو ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان ملک میں صدارتی نظام لے آئیں گے۔مجھے پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما نے بھی بتایا کہ یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ صدارتی نظام لانے کے حوالے سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر ریفرنڈم کروایا جائے۔ ۔دوسری جانب سینیئر صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کوئی وہ کام نہیں کرنا چاہتی جو باقی پی ڈی ایم چاہتی ہے، اگر پی ڈی ایم کو آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم سے خدا حافظ کہہ دیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر پیغام میں سلیم صافی نے کہا کہ ’’مولانا اور

مریم نواز کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ پیپلز پارٹی کوئی وہ کام نہیں کرنا چاہتی جو باقی پی ڈی ایم چاہتی ہے ۔ وہ پی ڈی ایم کی روح کے مطابق آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم سے خدا حافظ کہہ دیں۔ مولانا زرداری اور مریم ، بلاول کی باتوں کی بجائےانکےعمل کو دیکھیں‘‘۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے قومی اسمبلی میں استعفے جمع کروانے میں تاخیر کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جبکہ پیپلز پارٹی نے سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ، جس کے بعد ن لیگ نے بھی سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎