Android AppiOS App

کیا خواجہ آصف (ن)لیگ چھوڑنے والے ہیں؟ بہت بڑی خبر

  جمعہ‬‮ 1 جنوری‬‮ 2021  |  17:35

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق نے انکشاف کیا ہے کہ خواجہ آصف پر پارٹی چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔انہوں نے کہا گرفتاری کے بعد خواجہ آصف پر دباؤ ڈالا گیا کہ پارٹی چھوڑ دو۔خواجہ آصف نے یہ مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس پارٹی میں تیس سال گزار دئیے اب تو بال بھی سفید ہو گئے ہیں، یہ کام نہیں

کر سکتے۔ ایاز صادق نے کہا کہ خواجہ آصف کے ساتھ ایک اور لیگی رہنما کو پارٹی چھوڑنے کا دباؤ ڈالا گیا تاہم انہوں نے اس لیگی رہنما کا نام بتانے سے گریز کیا۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ تمام تر اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود ن لیگ میں فارورڈ بلاک نہ بن سکا تو رہنماؤں کی گرفتاریوں شروع کر دی

گئیں۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، یہ بھی گزر جائے گا۔ ہم سرخرو ہوں گے اور ان کے منہ کالے ہوں گے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ نواز شریف کا پاسپورٹ ایکساپئر ہو رہا ہے جس ہر لیگی رہنما نے کیا کہ کیا اب شیخ رشید کو بھی سنجیدہ لیں گے؟۔انہیں جس نے وزیر داخلہ بنایا اس کی عقل کو سلام۔واضح رہے کہ نیب نے 29 دسمبر کو مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء خواجہ آصف کو اسلام آباد سے احسن اقبال کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔ پارلیمانی لیڈر ن لیگ خواجہ آصف کو آمدن سے زائد اثاثوں

کے کیس میں گرفتار کیا گیا ۔ خواجہ آصف اسلام آباد میں سیکرٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال کے گھر کے باہر موجود تھے کہ نیب حکام نے انہیں گرفتار کرلیا ۔ بتایا گیا کہ خواجہ آصف کے وارنٹ گرفتاری چیئرمین نیب کے دستخط سے جاری ہوئے۔ خواجہ آصف کو گرفتاری کے بعد نیب راولپنڈی کے دفتر میں منتقل کردیا گیا۔ نیب راولپنڈی میں طبی معائنہ کیا جائے گا۔آج صبح بدھ کو احتساب عدالت سے خواجہ آصف کا راہداری ریمانڈ لیا جائے گا۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف کو اسی کیس میں گرفتارکیا گیا ہے جو پی ٹی آئی رہنماء عثمان ڈار نے ان پر کیا تھا۔ عثمان ڈار کے اسی کیس پر خواجہ آصف کو اسمبلی رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎