Android AppiOS App

اگر مگر کا وقت ختم! مولانا فضل الرحمان غصے میں آگئے، پیپلز پارٹی کو جھٹکا دے دیا

  جمعہ‬‮ 1 جنوری‬‮ 2021  |  13:31

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہی اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے پیپلزپارٹی سے دوٹوک موقف لینے کا فیصلہ کرلیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات میں پیپلز پارٹی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا جس

کی بناء پر اپوزیشن اتحاد کے سربراہ نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعہ کے روز جاتی امراء میں ہونے والے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہی اجلاس میں پیپلزپارٹی سے دوٹوک موقف لیا جائے گا۔ دوسری طرف چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں شریک نہ ہونے کا امکان ظاہر کردیا گیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق پی پی پی چیئر مین سیاسی پوزیشن میں ممکنہ تبدیلی کی وجہ سے

اپوزیشن اتحاد کے سربراہی اجلاس میں شرکت سے گریزاں ہیں کیوں کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے اجلاس کے معاملے پر شدید بحث کا امکان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس ضمن میں بلاول ہاوس میں انتہائی اہم مشاورت بھی کی گئی جہاں سابق صدر آصف علی زرداری کی بھی رائے لی گئی ، جس کے بعد قوی امکان یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری پی ڈی ایم اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے اور ان کی عدم شرکت کے باعث پیپلزپارٹی کا وفد اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرے گا۔ یہاں واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی

طرف سے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی طرف سے جاری حکومت مخالف تحریک میں استعفوں اور لانگ مارچ کے حوالے سے نئی شرط رکھ دی ہے ، میڈیا ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں ہوا ، جس میں اراکین کی طرف سے کہا گیا کہ ہم لانگ مارچ کیلئے تیار ہیں لیکن مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیراعظم کو بھی وطن واپس آکر اس لانگ مارچ کا حصہ بننا چاہیئے ، نوازشریف کی وطن واپسی کی صورت میں اسمبلیوں سے استعفوں پر بات ہوسکتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے اجلاس میں اراکین کی اکثریت نے کہا کہ جمہوری قوتوں کو جھانسے میں نہیں آنا چاہیئے ، پیپلزپارٹی کسی کی ڈکٹیشن پر نہیں چل سکتی جب کہ ہم نئی پی این اے بھی نہیں بن سکتے ، اس لیے پاکستان پیپلزپارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جمہوری قوتوں

کو ساتھ لے کر موجودہ حکومت کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہر طرح کی قانونی جدوجہد کی جائے گی۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎