Android AppiOS App

چین کے صدرپاکستان کب آنے والے ہیں،پاکستانی وزیر خارجہ نے بیجنگ فون گھما کر کیا کچھ طے کرلیا، دہلی والوں کو سانپ سونگھ گیا

  جمعرات‬‮ 31 دسمبر‬‮ 2020  |  21:59

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب وانگ ژی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا ۔دوران گفتگو دو طرفہ تعلقات، کرونا وبائی لہر اور خطے میں امن و امان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیاوزیر خارجہ نے چینی ہم منصب کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیاپاکستان

اور چین کے مابین گہری اور مثالی دوستی کو خطے میں امن و استحکام کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔پاکستان، ون چائنہ پالیسی سمیت قومی سلامتی سے متعلق چین کی داخلی پالیسیوں کی حمایت کرتا ہےخوشی کی بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت پاکستان چین اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے منصوبوں کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ

یشی کرونا وبا کی روک تھام اور کرونا ویکسین کی تیاری کے حوالے سے چین کی خدمات قابل تحسین ہیںپاکستان ميں بھی چین کی تیار کردہ ویکسین کا ٹرائل کیا جا رہا ہے وزیر خارجہ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین زراعت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے، تحقیقی اور علمی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چینی صدر ژی کے جلد دورہ ء پاکستان کے متمنی ہیں بھارت کی ہندوتوا پالیسیوں پر عمل پیرا مودی سرکار، پورے ایشیائی خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے ۔وزیر خارجہ نے بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں کشمیری عوام کے استحصال اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا تسلسل رکوانے کیلئے عالمی برادری کی جانب سے فوری کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیادونوں وزرائے خارجہ کے مابین افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے حوالے سے خصوصی تبادلہ ء خیال ہوادونوں وزرائے خارجہ نے بین الافغان مذاکرات کے انعقاد اور قواعد و ضوابط پر اتفاق کو مثبت اور خوش آئند قرار دیا دونوں وزرائے خارجہ کا خطے میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے اور مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎