Android AppiOS App

نواز شریف مذاکرات کے لیے مان گئے! اپنی سیاست بچانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کیا آپشن رکھ دیا؟ مریم نواز پریشان

  بدھ‬‮ 30 دسمبر‬‮ 2020  |  13:41

سینئیر کالم نگار جاوید چوہدری نے کہا کہ میاں شہباز شریف شروع سے مل کر چلنے کے قائل ہیں لیکن یہ اس بیانیے کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کو دھوکہ دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ کالم میں کہا کہ میاں نواز شریف 19 نومبر 2019ء کو لندن روانہ ہوئے۔یہ آپریشن بھی میاں شہباز شریف نے

کیا تھا، مذاکرات بھی انہوں نے کیے تھے اور میاں صاحب کے ضامن بھی یہ تھے، میاں صاحب کے بعد مریم نواز بھی ملک سے باہر جا رہی تھیں لیکن عمران خان مریم نواز کے معاملے میں ڈٹ گئے اور یہاں سے نئی کہانی شروع ہو گئی، حکومت اگر مریم نواز کو بھی جانے دیتی تو بڑے میاں صاحب کا خاندان خاموشی اختیار کر لیتا اور

آج حالات مختلف ہوتے لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں یہ موقع حکومت نے ضائع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ کیوں کیا؟ اس کی وجہ خوف تھا‘ حکومت کا خیال تھا مریم نواز کے بعد میاں شہباز شریف کا راستہ کھل جائے گا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور کم از کم پنجاب ضرور واپس لے لیں گے چناں چہ حکومت نے جان بوجھ کر مریم نواز کو ملک میں رکھا۔ حکومت نے میاں شہباز شریف کا راستہ روکنے کے لیے مریم نواز کو ہیرو بننے کا پورا موقع بھی دیا‘ ملک میں ان کے انٹرویوز بھی چل رہے ہیں اور تقریریں بھی لائیو دکھائی جا رہی ہیں۔ ہیرو بنیں گی تو میاں شہباز شریف کا راستہ رکے گا اور عمران خان یہ کارڈ شان دار طریقے

سے کھیل رہے ہیں‘ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا ن لیگ سیاسی لحاظ سے مار کھا رہی ہے‘ پی ڈی ایم کی تحریک کا فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی اٹھا رہی ہے‘ یہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کے ساتھ انگیج ہو چکی ہے اور سینیٹ کے الیکشنز میں بھی شریک ہو گی اور استعفے بھی نہیں دے گی لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں ن لیگ سیاسی لحاظ سے پھنس گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے پارٹی کو اس صورت حال سے کون نکال سکتا ہے؟ وہ شخص میاں شہباز شریف ہے۔ محمد علی درانی کی شکل میں ایک نیا پتا سامنے آیا ہے۔ جاوید چوہدری کا کہنا تھا کہ لندن میں شریف فیملی کے ایک فرد کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں اور یہ بریک تھرو ان مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ میاں نواز شریف بھی اب

مذاکرات کے لیے تیار ہیں بس ان کے دو مطالبات ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ لیول پلے انگ فیلڈ دے دے، حکومت اور اپوزیشن دونوں کو سیاست کا موقع دے دیاجائے۔ یہ اپنا فیصلہ خود کر لیں۔ ریاست نیوٹرل رہے اور دوسرااگر سیاسی جماعتیں الیکشن پر راضی ہو جاتی ہیں تو اگلا الیکشن غیر جانب دار ہو اورکوئی اس میں مداخلت نہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرینڈ ڈائیلاگ اور پیر صاحب پگاڑا نے ذمہ داری اٹھا لی ہے یہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اکٹھا بٹھانے کے لیے تیار ہیں، یہ کوشش اگر کام یاب ہو گئی تو میاں شہباز شریف باہر آئیں گے اور یہ اس بار مکمل مختلف انسان ہوں گے، یہ کُھل کر سیاسی ڈائیلاگ اور میثاق معیشت کا اعلان کریں گے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎