Android AppiOS App

جمعیت علماءاسلام کے ناراض رہنما مولانا شیرانی نے پریس کانفرنس میں بڑا اعلان کر دیا

  منگل‬‮ 29 دسمبر‬‮ 2020  |  20:58

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا شیرانی نے کہا کہاکابرین سےوراثت میں ملی جماعت کانام جےیوآئی پاکستان ہے ،فضل الرحمان نے(ف)کےنام سےاپناگروپ تشکیل دیاہے ہم تمام ساتھیوں کو ترغیب دلائیں گے جماعت کے اداروں سے رابطہ نہ توڑیں۔ ہمارے بارے جو کچھ بھی کہا جائے گا ہم جواب نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کو تنہا کرنا ہماری پالیسی ہوگی۔ سچ بولنا ہماری پالیسی ہوگی۔ آپس میں ہر صورت کارکنان رابطہ رکھیں گے اگر فضل الرحمن گروپ ہمیں دعوت دے گا تو ہم ضرور شریک ہوں گے۔ ہم اس شرط پر شریک ہوں گے کہ اس پروگرام کے نظم کے لوگ یقین دلائیں گے کہ کوئی روکے گا نہیں جب روکا جائے گا یا ہمارے کارکنان شریک ہوں گے تو نعرے لگیں گے ہم

اپنے پروگراموں میں انہیں بلائیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ ہم اپنے پروگرام میں منفی رویہ اختیار نہیں کریں گے۔ اس پوری انتشار کو وحدت میں بدلا جاسکتا ہے مرکزی عمومی جے یو آئی پاکستان اور جے یو آئی ف کےنوٹیفیکشن منسوخ کرے۔ دونوں نوٹیفکیشن اگر منسوخ ہوں تو پھر ان کو صوبوں کو دیا جائے۔ ہمارا دستور سکھر میں تقوی کی بنیاد والا بحال کیا جائے۔ وہ دستور بحال اور باقی ترامیم ختم کردی جائیں۔ مرکزی عمومی قرارداد پاس کرے کہ صوبائی تنظیموں کو اختیارات واپس کرے۔ مولانا شیرانی نے مزید کہا کہ مرکزی مجلس عمومی اور چاروں صوبائی عمومی کے اجلاس ایک نکتہ پر بلائے جائیں کہ رکنیت سازی درست تھی یا غلط۔دعوت کا سلسلہ ساتھیوں سے جاری رکھا جائے گا۔ کسی ساتھی کو کسی بھی کام پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ہر ساتھی کو ترغیب کا راستہ اختیار کرنے کا کہا جائے گا۔ ہر ساتھی اپنے علم کے مطابق چلے گا۔وہ تمام معاملات ساتھیوں کے سامنے رکھے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال 2002کے بعد سے لیکر جے یو آئی ف سے لیکر 2018تک مختلف نوٹیفیکیشن کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مولانا قمر الدین نے پارٹی کے لئے قلم کا نشان لینے کی درخواست الیکشن کمیشن میں

جمع کرایا ہے اب کوئی شک نہیں رہا کہ جے یو آئی ف کا گروپ بن چکا ہے ۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اب ہمارے ساتھی جے یو آئی ف گروپ کا حصہ نہیں رہے۔ ہماری آئندہ پالیسی کے تین پہلو ہوں گے ہم نے کیا کرنا ہے۔ رکنیت سازی کیسے کرنا ہے سات بنیادی اصولوں پر چلیں گے کوئی بھی ساتھی قرآن و سنت کے

خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گی

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎