Android AppiOS App

نہ عمران خان اور نہ اپوزیشن! نیشنل ڈائیلاگ کا آئیڈیا کس کا نکلا؟ سب کچھ سامنے آگیا

  منگل‬‮ 29 دسمبر‬‮ 2020  |  16:19

حکومت اور اپوزیشن کے مابین نیشل ڈائیلاگ سے متعلق بات کرتے ہوئے سینئیر تجزیہ کار ظفر ہلالی نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ میرے خیال سے اسٹیبلشمنٹ کا آئیڈیا ہے ، میں نہیں سمجھتا کہ عمران خان نے نیشنل ڈائیلاگ کی تجویز پیش کی ہو گی۔ میں نہیں سمجھتا کہ اسے

اپوزیشن جماعتوں نے بھی تجویز کیا ہو گا۔ یہ ایک اچھا آئیڈیا ہے، نیشنل ڈائیلاگ ہونا چاہئیے ۔ عمران خان اور اپوزیشن کی جانب سے یہ تجویز سامنے نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں کو معلوم ہے کہ ہم نے بات کرنی ہے، اور ہم نے جب بھی بات کرنی ہے ہمارا کسی ایک بات پر بھی اتفاق نہیں ہے۔ یہ آپس میں بات ہی نہیں کرنا چاہتے۔ اگر ایک پارٹی دوسرے سے بات

کرنا چاہے گی لیکن دوسری پارٹی کا مؤقف ہٹ دھرمی ہی ہو گا تو پھر یہ نیشنل ڈائیلاگ بہرے سے کیا جانے والا ایک مکالمہ ہو گا ۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے زہریلے دشمن ہیں، ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں۔ ظفر ہلالی نے کہا کہ ان سے کچھ اُمید نہیں کی جا سکتی ، میں کسی کی سائیڈ بھی نہیں لینا چاہتا۔ انہوں نے جو کرنا ہے کر لیں۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کی تقریر پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ دیکھ دیکھ کر تھک گئے ہیں۔ ان کو چاہئیے کہ کوئی بات کریں، حکمت عملی بتائیں کہ آپ آ کر کیا کریں گے۔ آپ نے ماں باپ کے علاوہ سب گالیاں دے دی ہیں، اس کے باوجود آپ کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت نہیں ہے ، جمہوریت کیسے ہو گی اور اب یہ لوگ کیا چاہ رہے ہیں، میری سمجھ سے تو بالکل باہر ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎