Android AppiOS App

مُقتدر حلقوں کا آصف زرداری سے رابطہ! سیاست کے گرو نے کیا چال چل دی؟ پاکستانی سیاست میں ہلچل

  منگل‬‮ 29 دسمبر‬‮ 2020  |  12:34

نیب ایک محفوظ راستہ ہے ، یہی سوچ کر اب اہم حلقوں، پاکستان پیپلز پارٹی میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے تحت رابطے بحال ہو گئے ہیں۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ شہباز شریف کے بعد اہم حلقوں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے

تحت رابطے بحال ہوگئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو اسمبلیوں سے مستعفی ہونے ، دھرنا دینے کے فیصلے پر نظرثانی کے بدلے محفوظ راستہ دینے کی حامی بھرلی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ کے سیاسی حلقوں میں پیپلز پارٹی اور اداروں کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے اہم پیشرفت کی بازگشت ہے ، پاکستان پیپلز پارٹی کے معتمد ترین ذرائع نے ن لیگ کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب

اختلاف شہباز شریف کے بعد پی پی اور اہم حلقوں کے مابین ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے تحت ڈائیلاگ کے لیے اہم پیشرفت کا امکان ظاہر کیا ، جس کے تحت سیاسی صورتحال کا حل تلاش کرنے کے لیے پیغامات کا تبادلہ کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی رابطے میں پیپلز پارٹی قیادت کو تجویز پیش کی گئی ہے کہ وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے اور دھرنا دینے کے فیصلے پر نظرثانی کرلے تو انہیں محفوظ راستہ دینے کی راہ نکالی جاسکتی ہے ، حکومت کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنانے کے معاملے پر بھی نظرثانی کا پیغام پہنچایا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق معتبر ترین ذرائع نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو لچک دکھانے کی حامی بھرنے پر نیب سمیت دیگر معاملات نمٹانے اور محفوظ راستہ

فراہم کرنے کے لیے ضمانت فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے لیکن پیپلز پارٹی نے واضح کیا کہ ان کی طرف سے پارلیمنٹ میں مذاکرات کی پیشکش کی دعوت کو حکومت نے این آر او قرار دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مخالف سیاسی حلقوں میں پیپلز پارٹی اورطاقتور اداروں کے درمیان ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے تحت پیغام رسانی میں ممکنہ ڈیل کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ سندھ کے سیاسی حلقوں میں بازگشت ہے کہ ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کا دورہ گڑھی خدا بخش اسی سلسلے کی کڑی تھا، جس میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ قیادت نے اہم قومی مسائل پر اتفاق رائے سے فیصلے کی روایت قائم رکھنے کی غرض سے مشاورت کی ہے ۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎