Android AppiOS App

عمران خان کے لیے آخری موقع! اگر کارکردگی نہ دکھائی گئی تو کیا ہوگا؟ وزیر اعظم کے لیے بڑا خطرہ پیدا ہوگیا

  پیر‬‮ 28 دسمبر‬‮ 2020  |  18:42

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پر مشتمل اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی حکومت مخالف تحریک آئندہ چند ماہ خصوصاً مارچ اپریل میں اپنے عروج پر ہوگی ، حکومت کے پاس بحران سے نکلنے کی راہیں محدود تر ہوجائیں گی ، ان خیالات کا اظہار تجزیہ کار و صحافی امتیاز عالم نے کیا۔ تفصیلات کے

مطابق قومی روزنامہ کیلئے اپنے کالم میں انہوں نے لکھا کہ وزیراعظم عمران خان کے لئے یہ پہلا اور غالباً آخری موقع تھا جو وہ تقریباً گنوا بیٹھے ہیں ، اب حکومت کے پاس پرفارمنس دکھانے کا وقت بہت کم بچا ہے لیکن اس وقت ساری حکومت وزیراعظم آفس میں قید ہو کر رہ گئی ہے اور عملی میدان میں بظاہر ان کے پاس دکھانے کو کچھ بھی نہیں ہے ، ایسے میں ’وہ‘ کچھ

بھی کرسکتے ہیں۔ امتیاز عالم نے لکھا کہ ملک میں اس وقت سیاسی حالات بد سے بدتر ہو چلے ہیں لیکن اس ساری صورتحال میں تجربہ کار اپوزیشن کو بھی حالات کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا کیوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عمران خان کو حکومت سے نکالتے نکالتے آئینی جمہوریت کی ہی سانس ٹوٹ

جائے۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے استعفے دیے تو ان کے اندر فاروڈ بلاک بن جائیں گے، کروڑوں روپے خرچ کر اسمبلیوں میں آنے والے ان کی باتوں پر نہیں جائیں گے، پی ڈی ایم والے لوگوں کو بےوقوف سمجھتے ہیں، لیکن ان کو لاہور میں پتا لگ گیا کہ لوگ بےوقوف نہیں ہیں۔ انہوں نے چکوال میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے استعفے دیے تو ان کے اندر فاروڈ بلاک بن جائیں گے، کروڑوں روپے خرچ کر اسمبلیوں میں آنے والے ان کی باتوں پر نہیں جائیں گے، مولانا فضل الرحمان 12 ویں کھلاڑی ہیں، عمران خان نے کہا کہ پی ڈی ایم والے لوگوں کو بےوقوف سمجھتے ہیں۔ اپوزیشن لوگوں کو حقارت سے دیکھتی ہے، لاہورمیں ان کو پتا لگ گیا کہ لوگ بےوقوف نہیں ہیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎