Android AppiOS App

کیس کی سماعت سے ایک دن پہلے مدعی سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے گھر پہنچ گیا پھر کیا ہوا؟ عدالت عظمیٰ نے زبردست فیصلہ سنا دیا

  بدھ‬‮ 25 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  12:17

سپریم کورٹ میں کیس دائر کرنے والا شخص کیس کی سماعت سے ایک دن قبل جج کے گھر پہنچ گیا۔ تفصیلات کے مطابق کامران بنگش نامی نوجوان کیس کی سماعت کے سلسلے میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل سے ملنے ان کے گھر پہنچ گیا۔جس پر جسٹس مظہر عالم کیجانب سے شہری کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا۔ جج سے

گھر جا کر ملنے کے کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے استفسارکیاکہ کامران بنگش کون ہے؟ ملزم روسٹرم پر آیا تو جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ آپ سمجھتے ہیں عدالتیں انصاف نہیں کرتیں؟اس لیے آپ میرے گھر ملنے چلے آئے؟ اس پر کامران

بنگش نے کہا کہ میرٹ پر ہی فیصلہ کرنیکی استدعا کی تھی، جس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیے کہ آپ کو جیل بھیجیں گیتو میرٹ پر فیصلے کامعلوم ہوگا۔جسٹس مظہرعالم میاں خیل کا کہنا تھا کہ وہ سمجھے کہ ان کا کزن کامران آیا ہے،ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر مجھے کامران بنگش نے کہا میرا کل آپ کے پاس کیس ہے، کوئی درخواست گزار ایسے جج کو ملنے کی

جرأت کیسے کرسکتا ہے؟ عدالت میں ملزم اور اس کے والد کی جانب سے معافی کی درخواست کی گئی جس پر عدالت نے کامران بنگش کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اداکرنیکا حکم دیتے ہوئے کہاکہ آج ہی ایدھی فاؤنڈیشن میں جرمانہ کی رقم جمع کرانا ہو گی یا جیل جاؤ گے۔جسٹس عمرعطابندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کچھ صورتوں میں ملزم کو جیل بھیجنا قابل اصلاح نہیں ہوتا۔ ملزم کی جانب سے جرمانے کے لیے مہلت طلب کرنے پر عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم نوجوان ہے اور اس کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی جارہی، جس کے بعد ملزم کے والد نے ایک لاکھ روپیہ جرمانے کی رقم عدالت میں جمع کرادی۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎