Android AppiOS App

خادم رضوی کون تھے، کیا کام کرتے تھے ایسا کیا ہوا کہ کچھ ہی سالوں میں وہ مذہبی سیاسی حلقوں پر چھا گئے ان کو کون کون سی مشکلات پیش آئیں، مکمل رپورٹ

  اتوار‬‮ 22 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  0:12

گزشتہ روز وفات پاجانے والے تحریک لبیک کےسربراہ مولانا خادم رضوی کون تھے، کہاں سے آئے اور چند ہی دنوں میں ملک میں مذہبی سیاسی حلقوں میں اس قدر مقبولیت کیسے حاصل کر لی۔ آج سے چندسال پہلے تک مولوی خادم حسین رضوی کا نام پاکستان کے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں انتہائی غیر معروف اور گمنام تھا۔ مولانا

خادم حسین رضوی جون 1966میں ضلع اٹک کے علاقے نکہ توت کے رہائشی حاجی لعل خان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ انھوںنے جہلم اور دینہ کے مدارس سے قرآن کریم حفظ کیا اور جامعہ رضویہ سے درس نظامی مکمل کیا۔وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔لڑکپن ہی میں وہ ٹریفک کے ایک حادثے کاشکار ہو کر ایک

ٹانگ سے محروم رہ گئے تھے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے تھے۔بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے خادم رضوی سال 2010تک پنجاب کے محکمہ اوقاف کی سرکاری ملازمت پر مامور تھے اور ایک مسجد کے امام تھے۔ جب ممتاز قادری کے ہاتھوں سابق گورنر سلمان تاثیر کی موت واقع ہوئی اور انھیں گرفتار کیا گیا توخادم حسین رضوی نے بڑھ چڑھ کر ممتاز قادری کے حق میں آواز بلند کی۔ ایک سرکاری منصب پر رہتے ہوئے خادم رضوی کا یہ اقدام اس وقت کی حکومت سے بالکل بھی برداشت نہ ہوااور انھیں ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔خادم رضوی نے ستمبر 2017 میں اپنی سیاسی جماعت تحریک لبیک کا قیام عمل میں لایا۔ اور نوازشریف کے نااہل ہونے پر لاہور کے حلقہ این اے 120میں ضمنی الیکشن لڑا ، جس میں انھوںنے 7000ووٹ حاصل کر کے سب کو حیران کر ڈالا۔خارم رضوی کو اصل شہرت 2017میں مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں راولپنڈی اور اسلا م آباد کے سنگم فیض آباد پر اپنے ہزاروں کارکنوں کے ہمراہ ایک کامیاب دھرنا دے کر حاصل ہوئی۔ شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں قومی اسمبلی میں ختم نبوت پر ایک ترمیمی حلف نامہ جمع کرنے کی جسارت کی گئی جس کے خلاف خادم حسین رضوی کی جماعت تحریک لبیک نے سنی تحریک کے ساتھ مل کر فیض آباد میں ایک بڑا دھرنا دیا۔سخت سردی کے موسم اور بارش کے دنوںمیںبھی دھرنے کے شرکا اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور پھر حکومت ہی کو ہتھیار ڈالتے ہوئے

اس وقت کے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف زاہد حامد سے، جن پر یہ الزام تھا کہ حلف نامےکا ڈرافٹ

انھوںنےہی تیار کیا تھا، استعفیٰ لینا پڑا۔اس دھرنے کے حوالے سے یہ تاثر ابھر اکہ اسے پاک فوج کی حمایت حاصل تھی۔ دھرنے کے اختتام پر رینجرز اہلکاروں کی جانب سے دھرنے کے شرکا میں پیسے بانٹنے کی خبروں نے اس تاثر کو تقویت بخشی۔2020کے دھرنے کے دوران بھی خادم رضوی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی جس میں انھیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا تھا کہ کیا وہ بتا دیں کہ 2017کے دھرنےکے پیچھے کون تھا۔علامہ خادم رضوی 2017کے فیض آباد دھرنے کے دوران ٹی وی چینلو ں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی بتاتے رہے کہ نامعلوم لوگ دھرنے پر آتے ہیں اور لاکھوں روپے ان کے ہاتھ پر رکھ کر چلے جاتے ہیں۔ دھرنے کے شرکا کو راولپنڈی اسلام آباد اور پنجاب کے کئی شہروں سے کھانے پینے کی اشیا پہنچائی جاتی رہیں۔ یہاں تک کہ آسٹریلیا میں ایک مقیم شخص نے بھی رقم بھجوانے کےلئے علامہ خادم حسین رضوی کا بینک اکائونٹ نمبر مانگا تھا۔ واٹس ایپ پر ایک فون نمبر کے ساتھ ایک پیغام بھی گردش کرتا رہا جس میں کہاگیا تھا کہ اگر احتجاج کے دوران کسی کارکن کو کوئی سہولت مثلاً موبائل بیلنس، پیسے یا کھانا درکار ہو تو اُس نمبر پر پیغام بھیجے۔ اس سےیہ بھی تاثر ابھر کہ اندرون و بیرون ملک دونوں جانب سےانھیں فنڈز ملتے تھے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎