Android AppiOS App

علامہ خادم حسین رضوی کے نماز جنازہ میں وفاقی حکومت کی جانب سے کس نے شرکت کی؟لحد میں اتارتے وقت کون کون موجود تھا؟تحریک لبیک کے سربراہ کے سفر آخرت کی تفصیلات آگئیں

  اتوار‬‮ 22 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  0:03

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مسجد رحمت العالمین سے ملحقہ مدرسہ ابوذر غفاری میں سپرد خاک کر دیا گیا ، نماز جنازہ مینار پاکستان گرائونڈ (گریٹر اقبال پارک )میں ادا کی گئی جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں تحریک کے کارکنان اورعقیدت مندوں نے شرکت کی ،نماز جنازہ میں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نو ر الحق قادری ، چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان سمیت دیگر مذہبی و سیاسی شخصیات اورمختلف درگاہوں کے گدی نشینوں نے شرکت کی ، نماز جنازہ

کے موقع پر پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے جبکہ تحریک لبیک کے رضا کاربھی فرائض سر انجام دیتے رہے ، کمشنر لاہور ڈویژن مرکزی

کنٹرول روم میں بیٹھ کر سکیورٹی سمیت دیگر انتظامات کی خود نگرانی کرتے رہے ۔تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کا جسد خاکی بذریعہ ایمبولینس نماز جنازہ کے مقام مینار پاکستان لے جایا گیا ۔ ہزاروںکی تعداد میں کارکنان اورعقیدت مند میت لے جانے والی ایمبولینس کے ساتھ پیدل چلتے رہے ، اس موقع پر ملتان روڈ پر دکانیں بند رہیں ، ملتان روڈ سے آزادی فلائی اوور تک راستے کے دونوں اطراف لوگوں کی بڑی تعدادموجود رہی جو ایمبولینس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے۔ ایمبولینس کے ہمراہ چلنے والے شرکاء لبیک یارسول اللہ ، تاجدار ختم نبوت زندہ باد کے نعرے اور درود پاک پڑھتے رہے ۔ نماز جنازہ میں لاہور سمیت صوبہ بھر سے قافلے مینار پاکستان پہنچتے رہے جبکہ بہت بڑی تعداد میں لوگ نماز جناز ہ کیلئے طے کئے گئے وقت سے پہلے ہی مینار پاکستان گرائونڈ میںپہنچ گے جس سے گرائونڈ مکمل طور پر بھر گئی جس کے بعد لوگ اطراف کی شاہراہوں پر جمع ہونا شروع ہو گئے ہرطرف انسانوں کا سمندر نظر آیا جبکہ آزادی فلائی اوور بھی نماز جنازہ میں شرکت کے

لئے آنے والوں سے مکمل طور پر بھر گیا ۔ انتہائی رش کی وجہ سے میت لانے والی ایمبولینس کو نماز جناز ہ کے مقام مینار پاکستان گرائونڈ تک نہ پہنچایا جاسکا اور اسے آزادی فلائی اوور کے اوپر ہی کھڑا کر دیا گیا اور نمازجنازہ پرھائی گئی ۔نماز جنازہ علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے حافظ سعد حسین رضوی نے پڑھائی ۔ اس سے قبل شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے نو منتخب امیر حافظ سعد حسین رضوی نے کہا

کہ ہم علامہ خادم حسین رضوی کی نصیحت پر عمل کریں گے،گستاخی رسول کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اور مرحوم کا مشن جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر تمام شرکاء ہاتھ بلند کر کے اس کی توثیق اور تائید کرتے رہے ۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد خادم حسین رضوی کی میت کو واپس مسجد رحمت اللعالمین سے ملحقہ مدرسہ ابوذر غفاری لایا گیا اور اہل خانہ ،قریبی عزیز وا قار اور جماعت کے مرکزی رہنمائوں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیاگیا۔غیر جانبدار حلقوں کے مطابق علامہ خادم حسین رضوی کا نماز جنازہ لاہور کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا جنازہ تھا جس میں بڑی تعداد میں لوگوںنے شرکت کی ۔ انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے انتہائی جامع اور موثر انتظامات کئے گئے جس کی وجہ سے کسی بھی جگہ کوئی بد نظمی دیکھنے میں نہیں آئی ۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎