Android AppiOS App

خادم حسین رضوی کو پہلے ہی اپنی وفات کا اشارہ مل گیا تھا، اس لئے انہوں نے نومبر 2020ء میں فیض آباد ریلی میں کیا کیا تھا؟ عقیدت مندوں میں چہ مگوئیاں شروع

  اتوار‬‮ 22 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  0:01

علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے تحریک لبیک کے نئے امیر کا اعلان کردیا گیا، ان کے صاحبزادے حافظ سعد حسین رضوی کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی، اس بات کا اعلان جنازہ کے اجتماع میں ہی کردیا گیا، اس موقع پر علامہ خادم حسین رضوی کے عقیدت مندوں کے درمیان چہ مگوئیاں کا سلسلہ جاری ہے کہ انہیں اپنی وفات کا اشارہ مل گیا تھا اسی وجہ سے انہوں

نے نومبر 2020ء میں فیض آباد ریلی کی قیادت اپنے بیٹے کے سپرد کی تھی۔ عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ انہیں الہام ہو گیا تھا کہ وہ اس دنیا سے جانے والے ہیں، اسی وجہ سے انہوں نے ریلی قیادت اپنے بیٹے حافظ سعد رضوی سے کرائی تھی۔ واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان

کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مسجد رحمت العالمین سے ملحقہ مدرسہ ابوذر غفاری میں سپرد خاک کر دیا گیا، نماز جنازہ مینار پاکستان گراؤنڈ (گریٹر اقبال پارک)میں ادا کی گئی جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں تحریک کے کارکنان اورعقیدتمندوں نے شرکت کی،نماز جنازہ میں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نو ر الحق قادری، چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان سمیت دیگر مذہبی و سیاسی شخصیات اورمختلف درگاہوں کے گدی نشینوں نے شرکت کی، نماز جنازہ کے موقع پر پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے

جبکہ تحریک لبیک کے رضا کاربھی فرائض سر انجام دیتے رہے، کمشنر لاہور ڈویژن مرکزی کنٹرول روم میں بیٹھ کر سکیورٹی سمیت دیگر انتظامات کی خود نگرانی کرتے رہے۔تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کا جسد خاکی بذریعہ ایمبولینس نماز جنازہ کے مقام مینار پاکستان لے جایا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں کارکنان اورعقیدتمند میت لے جانے والی ایمبولینس کے ساتھ پیدل چلتے رہے،اس موقع پر ملتان روڈ پر دکانیں بند رہیں، ملتان روڈ سے آزادی فلائی اوور تک راستے کے دونوں اطراف لوگوں کی بڑی تعدادموجود رہی جو ایمبولینس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے۔ ایمبولینس کے ہمراہ چلنے والے شرکاء لبیک یارسول اللہ، تاجدار ختم نبوت زندہ باد کے نعرے اور درود پاک پڑھتے رہے۔ نماز جنازہ میں لاہور سمیت صوبہ بھر سے قافلے مینار پاکستان پہنچتے رہے

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎