Android AppiOS App

شہریوں کے لیے بری خبر،تمام اضلاع میں سمارٹ ،مائیکرولاک ڈائون کافیصلہ

  ہفتہ‬‮ 21 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  23:56

کراچی میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر شہر کے مختلف اضلاع میں اسمارٹ اور مائیکرو لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا، جس کا نوٹی فکیشن ایک دن کے اندر جاری کردیا جائے گا۔کمشنر کراچی افتخار شالوانی کی زیرصدارت تمام ڈی سیز اور ڈی ایچ او کا اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری صحت کاظم جتوئی نے بھی

شر کت کی اور فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کے تمام اضلاع میں اسمارٹ اور مائیکرو لاک ڈاؤن کیا جائےگا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چار اضلاع میں اسمارٹ لاک ڈاون اور دو اضلاع میں مائیکرو لاک ڈاون ہوگا۔کراچی کے ضلع جنوبی، شرقی، وسطی اور غربی کے ڈپٹی کمشنر اسمارٹ لاک ڈاون کا نو ٹی فیکیشن ایک دن میں جاری کریں گے جبکہ کورنگی اور ملیر کے

اضلاع میں مائیکرو لاک ڈاون ہو گا۔کشمنر افتخار شالوانی نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز محکمہ صحت کے متعلقہ افسران سے مشاورت کریں اور آج یا کل تک نو ٹی فیکشن جاری کر دیں۔خیال رہے کہ ملک میں اس وقت وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 68 ہزار 665 ہے جس میں سے 3 لاکھ 27 ہزار 542 صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ اموات کی تعداد 7 ہزار 561 تک پہنچ گئی ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کورونا وائرس کے 2 ہزار 738 کیسز اور 36 اموات کا اضافہ رپورٹ ہوا جبکہ 868 مریض صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد فعال کیسز کی تعداد 33 ہزار 562 تک پہنچ گئی۔خیال رہے کہ ملک میں اس عالمی وبا کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد سے جون تک وبا کے پھیلاؤ میں تیزی دیکھی گئی۔صوبہ سندھ جو اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے وہاں 24 گھنٹوں میں مزید ایک ہزار 193 کیسز کا اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 59 ہزار 752تک پہنچ گئی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں مزید 16 مریض وبا کے باعث انتقال کر گئے جس سے اموات کی مجموعی تعداد 2 ہزار 780 تک جا پہنچی۔یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا کی عالمی وبا کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد جون تک وبا کے پھیلاؤ میں تیزی دیکھی گئی اور لاک ڈاؤن بھی

کیا گیا۔کورونا وائرس کے کیسز میں جولائی میں کمی آنا شروع ہوئی اور یہ سلسلہ ستمبر کے اوائل تک جاری رہا لیکن ستمبر

کے اواخر سے ایک مرتبہ پھر کیسز میں اضافہ ہوا اور اکتوبر میں مزید تیزی آگئی، جس کا رجحان نومبر میں بھی نظر آرہا ہے اور ملک میں مثبت کیسز کی شرح 5 فیصد سے تجاوز کرگئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے 30 ستمبر کو منعقدہ اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے زور دیا تھا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن و دیگر اقدامات ضروری ہیں۔اجلاس میں کورونا وائرس کے کیسز خاص طور پر کراچی میں اس کے اضافے سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا اور ڈاکٹر فیصل سلطان نے کا کہنا تھا کہ وبا کی روک تھام کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن، کانٹیکٹ ٹریسنگ اور صحت کے اصولوں پر عمل درآمد کرنا پڑے گا۔سیکریٹری صحت سندھ نے بتایا تھا کہ شہری انتظامیہ حالات کی نگرانی کر رہی ہے اور بیماری کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مناسب انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔کراچی میں 26 فروری 2020 کو کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آتے ہی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔ابتدائی طور پر پورے شہر میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا اور اس کے تحت مارکیٹوں، بازاروں، شاپنگ مالز، جمز، کھیلوں کے مقابلوں سمیت مختلف شعبوں پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ لاک ڈاؤن، اسمارٹ لاک ڈاؤن میں تبدیل ہوا تھا اور مخصوص علاقوں میں کیسز کو دیکھتے ہوئے اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔بعد ازاں کورونا وائرس کیسز میں کمی کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کے تحت عائد پابندیوں کو بڑی حد تک ختم کردیا گیا تھا اور معمولات زندگی بحال ہوگئی تھیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎