Android AppiOS App

سکول بند کرنے اوربچوں کے گھروں سے نکلنے پر بھی پابندی! پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے، شہریوں کو سرپرائز دے دیا

  جمعہ‬‮ 20 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  23:31

کیبنٹ کمیٹی برائے انسداد کرونا میں سکولوں کو بند کرنے پر گرما گرم بحث، کیبنٹ کمیٹی میں سکول بند کرنے کیساتھ بچوں کا گھرسے غیر ضروری نکلنے پر بھی پابندی عائد کرنے پر بھی تبصر ہ کیا گیا ۔صوبائی وزیر قانون کی سربراہی میں کیبنٹ کمیٹی برائے انسداد کورونا کا اجلاس ایوان وزیر اعلی میں ہوا جس میں سکولوں کی

بندش پر بحث ہوئی ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر ڈاکٹر مراد راس نے سکولوں میں چھٹیوں کیساتھ بچوں پر غیر ضروری باہر نکلنے پر پابندی لگانے کا نکتہ ابھی ٹھایا ۔مراد راس نے کہا کہ سکول بند کرنے ہیں تو پھر حکومت بچوں کے شاپنگ مال ، اور پارک جانے پر بھی پابندی لگائے ۔زرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرمراد راس نے اجلاس میں کہا ہے کہ

ایک طرف سکول بند تو دوسری طرف بچے سیرو تفریح پر نکل جاتے ہیں۔ ڈاکٹر مراد راس نے یہ بھی کہا کہ سکول بند کرنے کا کیا فائدہ جب بچوں نے پارکس میں اور شاپنگ مال میں ہی جانا ہے۔جس پر زرائع کے مطابق صوبائی وزیر قانون راجا بشارت نے ڈاکٹر مراد راس کی اس تجویز کو سراہا اور آئندہ این سی او سی کے اجلاس میں پیش کرنے کا کہا ہے۔ دوسری جانب سکولوں میں بچوں کے”ب” فارم کے اندراج کا معاملہ، سکول سربراہان نے محکمہ تعلیم کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے، ہدایات کے باوجود پنجاب بھر کے سکولوں میں صرف 20 فیصد طلبا کے “ب” فارم کا اندراج ممکن ہوسکا۔پنجاب مانیٹرنگ یونٹ نے طلبا کے سکولوں میں داخلے کے وقت “ب” فارم کا اندراج لازمی قرار دیا ہے، 7 اکتوبر کو سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبہ بھر کے سکولوں میں داخل طلبا کے “ب” فارم نمبر کا اندراج سیس پر یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد سے اب تک پنجاب بھر میں سکول سربراہان نے صرف 20 فیصد طلبا کے “ب” فارم کا اندراج کیا، 80 فیصد بچوں کے “ب” فارم کا اندراج تاحال نہیں ہوسکا۔ذرائع کے مطابق پنجاب کے سرکاری سکولوں میں ایک کروڑ 25 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں، طلبا کے “ب” فارم نمبر کے ذریعے کسی بھی طالبعلم کے تعلیمی ریکارڈ کو آن لائن چیک کیا جاسکے گا۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق آئندہ سکولوں میں اساتذہ کے تبادلے اور ایڈجسٹمنٹ بچوں کی تعداد کے مطابق کی جائے گی۔واضح رہے کہ پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں 69 فیصد جعلی انرولمنٹ کا انکشاف ہوا تھا جس کا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے

نوٹس لیتے ہوئے تمام سکول سربراہان کو بچوں کے داخلوں سے قبل والدین سے(ب)فارم لازمی وصول کرنے کا حکم دیا تھا۔دوسری جانب محکمہ ہائرایجوکیشن نے رحمت العالمینﷺ سکیم کے تحت طلبا کو سکالرشپ دینے کا فیصلہ کر لیا، محکمہ خزانہ نے طلبا کیلئے 25 کروڑ روپے کا سکالرشپ منظور کرلیا ۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎