Android AppiOS App

نشان حیدر میجر عزیز بھٹی شہید کی گود میں موجود بچہ پاکستان کا انتہائی نامور اور دنیا کا انتہائی طاقتور ترین شخص ہے ، جانتے ہیں یہ بچہ کون ہے

  جمعہ‬‮ 20 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  23:24

ماضی بھی بڑی خوبصورت چیز ہے ، ایسے ایسے کمال نگینے اپنے سینے میں سموئے ہوئے ہے جن سے ہمارا رشتہ بہت مضبوط ہے ۔ تصاویر ماضی کا وہ دروازہ ہیں جن کے ذریعے ہم ماضی کے حسین جھروکوں میں بڑی آسانی سے جھانک سکتے ہیں ۔ انہیں دیر اپنی یادوں کے آنگن میں سجا سکتے ہیں ، اپنا دل بہلا

سکتے ہیں ۔ یہ تصویر بھی ماضی کےاس حسین دور کی عکاس ہے جب بے سرو سامانی کی حالت میں بھی پاکستان نے بھارت کو دھول چٹائی اور ہماری جوانوں کو ان کی جرات اور بہادری کے عوض نشان ِ حیدر عطا کیا گیا ۔ نشانِ حیدر پانے والوں میں سے ایک میجر عزیز بھٹی Shaheedبھی ہیںجو خود تو ہمارے لیے بہادری کا نشان ہیں ہی

مگراس تصویر میں ان کی گود میں موجود بچہ بھی کچھ کم نہیں ۔ جی ہاں یہ بچہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف ہیں ۔ پاکستان اور اس بڑھ کر اسلامی معاشرے میں بہنیں بھائیوں کا اور بھائی بہنوں کا فخر ہوتے ہیں ۔اور جس کے بھائی راحیل شریف اور شبیر شریف ہوں اس بہن کا بھائیوں پر فخر بے جا نہ ہوگا۔ سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) راحیل شریف اور میجر شبیر شریف Shaheed نشان حیدرکی بڑی بہن خالدہ سعادت بتاتی ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد ریاست جموں و کشمیر کے شہر سری نگر سےہجرت کرکے کنجاہ آ کر آباد ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا راحیل نے ریٹائرمنٹ لینے کا بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔یہاں کے عوام محبت کرنے والے لیکن سیاسی سیٹ اپ اچھا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا گھر کا ماحول فوجی تھا۔ والد نظم و ضبط بہت پسند کرتے تھے۔ روز مرہ کی زندگی کے طور طریقوں میں اسلامی اقدار واضح نظر آتی تھیں‘ بڑوں کی عزت کی جاتی تھی۔ راحیل کو سکول میں کسی اور چیز کے لیے انعام ملے یا نہ ملے لیکن ہر سال بہترین رویے والے طالب علم کا ایوارڈ ضرور ملتا تھا۔ وہ ہمیشہ مسکراتے رہتے۔ راحیل اب بھی مشکل سے مشکل وقت میں مسکراتے اور ہر ایک کے ساتھ مسکرا کر ملتے ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا۔انہوں نے معیار کو ہمیشہ ترجیح دی اور سب کے حقوق کا خیال رکھا۔ میجر شبیر شریف نے فوج کے لحاظ سے اس کی ٹریننگ کی اور سوئمنگ اور کھیل سکھائے۔ شبیر بہت اچھا کھلاڑی تھا‘ اسے بیڈ منٹن کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ انہوں

نے کہا میں نے راحیل کا نام بوبی رکھا تو سب انہیں بوبی کہنے لگے۔میرے بھائی نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے

کامکرکے جوعزت حاصل کی ہے اس میں ان کی بیگم کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایک بیوی کی حیثیت سےانہوں نے راحیل کا بہت خیال رکھا اور ہرقدم پر ساتھ دیا۔ انہوں نے بتایا والدہ میرے پاس رہتی تھیں۔ چیف بننے کے بعد راحیل نے کہا میرا کام ایسا ہے کہ مجھے ہر وقت ماں کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔راحیل نے کہا کہ میں صبح آپ کی دعاوٗں کے سائے میں جانا چاہتا ہوں۔ وہ امی کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ہر مشن پر جانے سے پہلےامی سے دعا لے کر جاتے۔ وہ کہتے تھے کہ خالدہ با جی! فکر نہ کرنا‘ مجھے آپ کی دعائیں چاہئے‘ آپ دعا کریں میں اپنے مشن میں کامیاب ہوجاؤں۔راحیل ہمیشہ کہتے رہے کہ شہادت سے بڑا کوئی رتبہ نہیں ہےاس رتبے کو حاصل کرنے کی خواہش کرنی چاہئے۔ میں نے انہیں کبھی فوجی یونیفارم کے بغیر نہیں دیکھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ایک تقریب میں انہیں تھری پیس سوٹ میں دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ خالدہ سعادت نے بتایا کہ میں دنیا کی خوش قسمت ترین بہن ہوں‘ جسے راحیل جیسا چھوٹا بھائی نصیب ہوا۔ اللہ کرے کہ ہر بہن کی قسمت میں ایسا بھائی ہو۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎