Android AppiOS App

پاکستان کے اہم شہر میں بھائی 14 سالہ سگی بہن کو ، لڑکی کے موبائل سے کیا کچھ نکل آیا ؟ جانیں

  بدھ‬‮ 18 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  23:30

ایف آئی آر کے مطابق نواب شاہ پولیس کو اطلاع ملی کہ گندم کے فصل میں ایک لڑکی کی ل، اش موجود ہے، جب پولیس وہاں پہنچی تو 14 سال کی عمر کی لڑکی کی موجود تھی جس کے بال اور بازو جھلس چکے تھے، لاپتہ لڑکی کے بھائی نے تصدیق کی کہ یہ ان کی گمشدہ بہن ہے۔پاکستان کے صوبہ سندھ کے

ضلع نوابشاہ کی پولیس نے 14 سالہ لڑکی کے ق ت ل کے الزام میں اس کے بھائی کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے تین بار بہن کا ر ی پ کیا اور خوف میں آ کر اسے ا لگا کر  دیا۔نوابشاہ کے دیہی علاقے جام صاحب کے قریب یہ واقعہ 14 نومبر کو پیش

آیا تھا۔جام ڈاتار پولیس کو 13 سالہ لڑکی کے بھائی نے شکایت کی تھی کہ اس کی بہن گذشتہ شب سے لاپتہ ہے۔ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ گندم کے فصل میں ایک لڑکی کی موجود ہے، جب پولیس وہاں پہنچی تو 13، 14 سال کی عمر کی لڑکی کی ل،ا،ش موجود تھی جس کے بال اور بازو جھلس چکے تھے، لاپتہ لڑکی کے بھائی نے تصدیق کی کہ یہ ان کی گمشدہ بہن ہے۔ نوابشاہ پولیس کے سابق ایس ایس پی تنویر تنیو نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے لڑکی کے زیر استعمال موبائل فون کو تحویل میں لیکر اس کی فرانزک کرائی اور اس کی روشنی میں ایک نوجوان کو حراست میں لیا جس سے لڑکی کی دوستی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ’لڑکے کے دوستوں کو بھی شامل تفتیش کرلیا،

معلوم ہوا ہے کہ بھائی نے اپنی بہن کو اس نوجوان کے ساتھ مراسم میں دیکھ لیا تھا جس کے بعد وہ اس کو کرتا رہا اور تین بار اس کا ر ی پ بھی کیا جس بارے میں لڑکی نے ​​​​​​​ اپنے بوائے فراینڈ کو بھی آگاہ کیا تھا۔‘تنویر تنیو کے مطابق پولیس نے لڑکی کے مذکورہ بھائی کو گرفتار کرلیا جس نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی بہن کا ر ی پ کرتا رہا ہے اور وقوعے والی رات بھی اس نے یہ کوشش کی تھی جس پر لڑکی نے مزاحمت کی اور اس نے اس کو ق، ت، ل کردیا۔ مقتول لڑکی دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ لڑکی کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، مدعی ایس ایچ او کا کہنا ہے

کہ وقوع سے شبہ ہوتا ہے کہ لڑکی کو غیرت کے نام پر کاری قرار دیکر ق ت لکیا گیا ہے اس لیے سرکار کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎