Android AppiOS App

کس ملک نے بادلوں میں گھر بنانے کا منصوبہ شروع کردیا۔یہ عمارت زمین کے ساتھ گردش کر ے گی،ایسی خبر جو آپ کو ورطہ حیرت میں ڈال دی گئی

  بدھ‬‮ 18 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  23:15

آسمان کی بلندیوں تک کون نہیں جانا چاہتا اور اگر بادلوں میں گھر بسانے کا موقع ملے توسب ہی اس خواب جیسی خواہش کو حقیقیت میں بدلنا چاہیں گے، اس ہی ضمن میں مختلف ممالک اس خواب کو حسین شاہکار کی صورت دینے کی کوشش میں ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اونچی سے اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے

سے مقابلے پر ہیں، اب تک دنیا کی بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر میں فرانس ، جرمنی،آسٹریلیا ، برطانیہ، متحدہ عرب امارات،سعودی عرب،چین،امریکہ،روس،ملائیشیا،ویت نام ،جنوبی کوریا, تائیوان اور کویت سر فہرست ہیں۔امریکہ ان تمام ممالک سے بلند و بالا زمین سے 32 ہزارمیٹرکی بلندی پر بادلوں کو چھوتی دنیا کی سب سے بلند ترین عمارت بنانے کے منصوبے پر دن رات کام کر رہا ہے ،بادلوں

،بادلوں سے باتیں کرتی اس عمارت کا نام اینالیما ٹاور ہوگا جو کہ انسانی تاریخ کا ایک حیرت انگیز منصوبہ ثابت ہو سکتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اینا لیما ٹاور حیرت انگیز طور پر زمین کی گردش کے ساتھ ساتھ گردش کرے گی زمین سے 32 ہزار میٹر اونچی یہ عمارت زمین کے شمالی اور جنوبی حصے میں گردش کرے گی، یہی وجہ ہے کہ اس عمارت کے رہنے والے مکینوں کا ایڈریس کبھی دبئی کا ہوگا تو کبھی نیویارک کا ،البتہ ہر 24 گھنٹے بعد یہ اپنی اصل جگہ پر واپس آجائے گی ۔

یہ بات تسلیم کرنا مشکل توضرور ہے مگر امریکی سائنسدانوں نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی اس مصوبے کو تشکیل کیا ہوگا ، یہی نہیں بلکہ ایک اور چونکہ دینے والی بات یہ ہے کہ کسی بھی خرابی یا منفی صورتحال کے پیش آنے پر اسے واپس نیچے بھی اتار لیا جائے گا ۔ ٹاور کی سب سے اوپر کی پانچ منزلوں پر انتہائی ٹھنڈ ہوگی ، درجہ حرارت منفی 40 ڈگری سیلسئس بھی ہو سکتا ہے،اس بلند ترین عمارت پر دھوپ کا دورانیہ 45 منٹ ہوگا اور شمسی توانائی سے ہی بجلی کا نظام چلے گا ،بادلوں اور ہوا سے پانی لیا جائے گا جسے عمارت میں ہی موجود مشینری پلانٹ سے فلٹر کیا جائے گا ، دنیا کی تیز ترین اور طاقتور لفٹس بھی اس میں نصب کی جائیں گی۔واضح رہے کہ The Council on Tall Buildings and Urban Habitat نے بھی اس عمارت کے بنائے جانے کی تصدیق کی ہے، جبکہ ناسا کےAsteroid redirect mission نے بھی اس مشکل ترین کام میں مدد کی ہے ' بتایا جارہا ہے کہ

32 ہزار میٹر کی اونچائی پر موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والے میٹریل کی تیاری پر تجربات مکمل کر لئے ہیں۔ جبکہ ڈیزائنر کی تجویز کے مطابق تعمیراتی میٹریل میں ہلکا ترین کاربن فائبر اور ایلومینیم استعمال کیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بلند ترین عمارت ہوا میں کھڑی ہوگی بھی یا نہیں اور اس ہی بات کی تصدیق کے لئے سائنسدان یونیورسل اور ویکٹر سپورٹس سسٹم کو تیار کرنے میں مصروف ہیں ، کہا جارہا ہے ناسا بھی جلد بلند ترین عمارتوں کی تعمیرات کے شعبے میں قدم رکھے گا ۔ یاد رہے کہ اس منصوبے کو Martian Habitat Dubbed Mars Ice Home کا نام دیا گیا ہے ۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎