Android AppiOS App

کرونا کی بگڑتی صورتحال، پرائمری ، مڈل اور ہائر سکینڈری سکولز کب بندکیے جائیں؟ تعلیمی اداروں میں طویل چھٹیاں دینے کی تیاریاں وفاقی وزارت تعلیم نے صوبائی حکومتوں کومراسلہ بجھوا دیا

  بدھ‬‮ 18 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  23:08

کرونا وائرس کے کیسز ایک بار پھر تیزی کیساتھ سامنے آنا شروع ہو چکے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی تشویشناک صورتحال اختیار کر تی جارہی ہے ۔ موجودکرونا وائرس کی بگڑتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی وزارت تعلیم نے سکولز کی بندش کے حوالے سے 3تجاویز صوبائی حکومتوں کو بجھوا دیں ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق پہلی تجویز کے مطابق 24نومبر سے 31جنوری تک تعلیمی اداروں کو بند کر دیا جائے ، دوسری تجویز کے مطابق 24نومبر سے پرائمری سکولز بند کر دیے جائیں اور تیسری تجویز کے مطابق 2دسمبر سے مڈل سکولزاور 15دسمبرسےہائیرسیکنڈری اسکولز بھی بندکردیے جائیںجبکہ تعلیمی سیشنز کو31مئی تک بڑھانے سے متعلق تجویز بھی پیش کی گئی ہے ۔ میڑک،انٹرمیڈیٹ امتحانات جون 2021میں لیےجائیں گے۔حتمی فیصلہ بین الصوبائی وزرائےتعلیم اجلاس 23نومبرکوہوگا جس میںباقی

صوبے اپنی تجاویز بھی پیش کریں گے اور ملکر متفقہ فیصلہ کیا جائے گا ۔دوسری جانب وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ کراچی پیکج پر کوئی ابہام نہیں ہے،اس پر سو فیصد عملدرآمد ہونا چاہیے۔مقامی حکومتوں کے نظام کو بہتر بنائے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔نئے تعلیمی سال میں یکساں تعلیمی نصاب پر عمل درآمد کا آغاز ہوجائے گا۔ریاست کی صلاحیت بہتر بنانے کے لئے چند نہیں ہزاروں اچھے فیصلے کرنا ہونگے۔کورونا وبا کے دوران بچوں کی صحت کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔23نومبر کو اسلام آباد میں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیوچر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شفقت محمود نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جسے بوجھ بنانے کے بجائے سودمند بنانا ہوگا۔ملک میں شرح ناخواندگی ایک بڑا چیلینج ہے جبکہ انصاف کا

نظام بھی درست نہیں ہے۔لوگوں کو انصاف ملنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ملک میں عدم برداشت کا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سول سروس کوبہتر بنانا ہوگا۔سینئر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بہت زیادہ جبکہ نجی شعبے کی تنخواہیں بہت کم ہیں۔مسائل سے نمٹنے کے لیے ہمیں حکومتی سطح پر اصلاحات کرنا ہوں گی۔شفقت محمود نے کہا کہ 18ویں ترمیم سے متعددمعاملات صوبوں کو

منتقل ہوگئے ہیں۔فوڈ سکیورٹی جیسے مسائل میں وفاقی حکومت کا کردار محدود ہوگیاہے۔مقامی حکومت کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔لوکل گورنمنٹ سسٹم کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔ولوکل گورنمنٹ کا مسودہ تیار ہے، نوک پلک بہتر کررہے ہیں۔فاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ ملک

بھر میں مختلف نظام تعلیم ہے،سرکاری تعلیمی نظام کو پچھلے 70برسوں میں نظر انداز کیا گیا۔اگر مختلف طریقوں سے

پڑھایا جائے گا تومزید بگاڑ پیداہوگا۔حکومت ملک بھر میں یکساں واحد نظام تعلیم متعارف کراکے نافذ کرنے والی ہے۔اسکول نہ جانے والے بچوں کے لیے اسپیشل پروگرام لارہے ہیں۔جلد ریڈیو چینل کے ذریعے پہلی جماعت سے 5ویں جماعت کے طلبا کو تعلیم دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ گورننس بہتر بنانے کے لئے انصاف اور قانون کی پاسداری پر توجہ دینا ہوگی۔ہیلتھ سہولت کارڈ سے

ایک خاندان 7لاکھ 40ہزار کا علاج ملک کے کسی بھی اسپتال میں کراسکتا ہے۔کم آمدنی کے حامل خاندانوں میں 12ہزار کے حساب سے رقوم فراہم کی گئی ہیں۔حکومت نے کووڈ سے قبل 50ہزار طلبا کو ٹیکنالوجی کے اداروں میں مفت داخلے دئیے۔جدید طرز کے لیکچرز اور تعلیمی نظام پر کام شروع کردیا ہے۔ٹیلی میڈیسن کے شعبہ میں بہت کام ہورہا ہے۔حکومت کے ٹیلی اسکول سے یومیہ 80لاکھ بچے استفادہ کررہے ہیں۔پنجاب اور کے پی میں تعلیمی سیلبس کم کردیا گیاہے۔وفاقی حکومت جامعات کو 100

ارب روپے کا فنڈ فراہم کررہی ہے۔سندھ میں صوبائی وزیر سعید غنی تعلیمی معاملات کو ٹھیک کررہے ہیں۔پہلے انٹرنیٹ وغیرہ کے مسائل تھے اب بہتر ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں الگ الگ طبقہ فکر اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔وہ لوگ جو دوسرے شہروں میں جاکر نوکریاں کرتے ہیں انکے لیے پناہ گاہیں بنارہے ہیں۔شفقت محمود نے کہا کہ بچوں کی صحت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔23نومبر کو اسلام آباد میں بین الصوبائی ایجوکیشن منسٹرز کی میٹنگ ہورہی ہے۔اس جلاس میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎