Android AppiOS App

عمران خان اور فوج کے درمیان اختلافات کی خبروں کا ڈراپ سین، بڑا فیصلہ سنا دیا گیا

  پیر‬‮ 16 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  20:45

ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صحافی صدیق جان نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کچھ اہم انکشافات کیے۔ صدیق جان نے حال ہی میں جاری کی گئی ویڈیو میں کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال پر میری اپنے سورس (ذریعہ) سے بات ہوئی تو انہوں نے مجھے کہا کہ حال ہی میں جس خبر پر چہ مگوئیاں ہو رہی

تھیں کہ ''فوج عمران خان کو ہٹانے پر غور کر رہی ہے'' ، ایسا کچھ نہیں ہے۔ صدیق جان کا کہنا تھا کہ میرے باخبر ذرائع نے مجھے بتایا کہ یہ خبر تو پی ڈی ایم کے خلاف جاتی ہے کیونکہ وہ الیکشن کو دھاندلی زدہ کہتے ہیں اور پارلیمنٹ کو جعلی پارلیمنٹ کہتے ہیں۔ لیکن اپوزیشن چاہتی ہے کہ یہ خبر ڈسکس ہو کیونکہ

اس سے سیاسی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ ن کو یہ فائدہ ہو گا کہ مسلم لیگ ن والے سوچیں گے کہ شاید واقعی فوج عمران خان کو ہٹا کر مسلم لیگ ن کو لانے کی کوشش کر رہی ہے اور پیپلز پارٹی یہ سوچے گی کہ چونکہ فوج مسلم لیگ ن کو لانے کا سوچ رہی ہے لہٰذا ہمیں مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہئیے۔ صدیق جان نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس وقت فوج کے ادارے کو وزیراعظم عمران خان پر مکمل اعتماد ہے۔ فوج اور وزیراعظم عمران خان ایک پیج پر ہیں، اور عمران خان کو فوج کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ آئندہ کچھ ماہ میں حالات مزید بہتر ہو جائیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ڈالر کا ریٹ کم ہو رہا ہے اور روپیہ مستحکم ہو رہا ، ڈالر بہت جلد ایک سال پہلے والے ریٹ پر جا رہا ہے۔ ڈالر کا ریٹ کم ہونے سے مہنگائی کم ہو گی ، چینی اور آٹے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے مزید بہتری آئے گی، پٹرول کی قیمت بھی کم ہو گی ، یہ ساری چیزیں بتاتی ہیں کہ آئندہ چار سے چھ ماہ میں ملک میں مزید بہتری نظر آئے گی۔ صدیق جان نے کہا کہ

اس وقت پاکستان کے ریجنل حالات ایسے نہیں ہیں کہ ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام ہو اور کوئی ایسا ایڈونچر کیا جائے ، اور عمران خان کو ہٹا کر کسی اور لایا جائے۔ مارشل لا نہیں لگے گا بلکہ جمہوریت ہی چلے گی، انہوں نے یہاں تک کہا کہ 2023ء تک تو سوال پی پیدا نہیں

ہوتا کہ عمران خان کو ہٹایا جائے۔ 2023ء کے بعد دیکھا جائے گا کہ عمران خان ہی دوبارہ آتے ہیں یا کوئی اور آ کر ملک کی قیادت کو سنبھالے گا۔ صدیق جان نے کہا کہ میرے ذرائع کا کہنا ہے کہ جس نواز شریف کے بارے میں فوج کلئیر ہے کہ وہ ملک دشمنوں کے ایجنڈے پر چل رہا ہے کیا اُسی کی پارٹی کو لایا جائے گا؟ جس نواز شریف کے خلاف اداروں کے پاس رپورٹس ہیں کہ وہ کس کس سے مل رہا ہے کیا فوج اُس کو لانا چاہے گی؟ جو فوج میں بغاوت کروانا چاہتا ہے ، جو جوانوں کو قیادت کے خلاف کروانا چاہتا ہے ، کیا اُس کی جماعت کو دوبارہ لایا جائے گا، ایسا کچھ نہیں ہونے والا نہ ہی ایسا ہو گا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎