Android AppiOS App

ملزم شفقت نے عدالت میں کیا اعتراف کر لیا؟ ناقابلِ یقین خبر

  جمعرات‬‮ 5 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  15:08

 خصوصی عدالت نے لاہور سیالکوٹ موٹروے  کیس کے شریک ملزم شفقت کا 164 کا بیان قلمبند کرنے کی اجازت دے دی ۔ تفصیلات کے مطابق موٹروےکیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔  خصوصی عدالت کے ایڈمن جج نے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد بیان قلمبند کرنے کی اجازت دے دی۔

مقدمے میں ملوث مرکزی شفقت عرف بھگا نے اعتراف کر لیا ہے۔ملزم کو سخت سیکیورٹی میں تفتیشی افسر ذوالفقار چیمہ نے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔ جہاں ملزم نے بند کمرے میں بیان قلمبند کروایا۔ملزم نے جوڈیشل مجسٹریٹ نزہت جبین کے سامنے کہا کہ میں نے یہ کام عابد ملہی کے کہنے پر کیا۔ عابد ملہی نے مرکزی ملزم عابد ملہی پر سارا مبلہ ڈالتے ہوئے کہا کہ میں نے عابد ملہی کے کہنے پر

خاتون کے ساتھ  کی۔ پولیس نے ملزم شفقت علی کو 13 ستمبر کو پہلے سے گرفتار ملزم وقار الحسن کی نشاندہی پر ایک اور ملزم شفقت علی لو گرفتار کیا تھا۔شفقت علی کی عمر 23سال ہے جو مرکزی ملزم عابد علی کا قریبی ساتھی ہے۔

پولیس نے شفقت علی کو دیپالپور سے گرفتار کیا تھا۔۔پولیس کا کہنا تھا کہ ضلع بہاولنگر تحصیل ہارون آباد کا رہائشی ہے پنجاب میں مختلف گینگز کے ساتھ منسلک رہے ہیں شفقت علی اور اس کا خاندان پہلے بھی میں ملوث رہا ہے۔ ملزم شفقت علی نے عابد کے ساتھ مل کر 11 وار،دا،تیں کیں۔ملزم شفقت علی نے پولیس کو دئیے گئے اعترافی میں بتایا کہ میں نے اور عابد نے مل کر موٹروے پر ڈکیتی کی تھی۔ واقعے کا مرکزی ملزم عابد علی  میں میرا ساتھی ہے۔ پہلے ہم نے کی،بعدازاں خاتون کونشانہ بنایا۔پعابد علی کے ساتھ مل کر  کرتا تھا،اس  کے لیے عابد نے لاہور بنایا تھا۔ موٹروے پر کے بعد ایک رات قلعہ ستار گاؤں میں گزاری۔معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دیپالپور چلا گیا تھا۔جب کہ عابد علی والد کے پاس چلا گیا تھا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎