Android AppiOS App

دو نہیں ایک پاکستان ۔۔۔ یکساں نظام تعلیم کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے دبنگ اعلان کر دیا

  منگل‬‮ 3 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  15:01

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں ملک میں موجود طبقاتی تقسیم کو ختم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قومی تعلیمی پالیسی سے تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی اور معاشرے کے تمام طبقات کو بااختیار بنانے کے مساوی مواقع فراہم ہوں گے۔ نئی نسل کو خاتم النبین ﷺ کی حیات

مبارکہ اور سنت کے متعلق مکمل آگاہی ہونی چاہیے کیونکہ حضرت محمد ﷺ ہی ہمارے رول ماڈل ہیں اور ان کی سنت ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ وہ قومی یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعظم میڈیا آفس کے مطابق وفاقی وزیر شفقت محمود نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ قومی سطح پر یکساں نصاب متعارف کرنے کا مقصد طلبہ میں

تجزیاتی اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔ اس نظام میں طلبہ کو نصابی تعلیم اور پاکستانیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سچائی، ایمانداری، برداشت، احترام، باہمی ہم آہنگی، ماحولیات کے بارے آگاہی، جمہوریت، انسانی حقوق، دیرپا ترقی اورذاتی تحفظ جیسے سنہری

اصولوں سے آراستہ کرنا ہے۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ یکساں نظام تعلیم میں طلبہ کی کرداری سازی پر خصوصی توجہ رکھی گئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ نصاب دیرپا ترقی کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوے مرتب کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق ملک کے تمام نجی و سرکاری سکولوں اور دینی مدارس پر بھی ہوگا۔ اسلامی تعلیمات کے فروغ کی خاطر اسلامیات کو درجہ اول سے بارہویں جماعت تک نصاب میں بطور علیحدہ مضمون کے پڑھایا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے مذہبی تعلیمات کے نام سے ایک الگ مضمون متعارف کیا گیا ہے جو پہلی جماعت سے پڑھایا جائے گا۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ یکساں نصاب تعلیم کا محور طلبہ کو دور حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔ اس ضمن میں تمام شراکت داروں سے مشاورت کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں ملک میں موجود طبقاتی تقسیم کو ختم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ یکساں نظام تعلیم ناصرف دور جدید کا تقاضا ہے بلکہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ قومی تعلیمی پالیسی سے تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی اور معاشرے کے تمام طبقات کو بااختیار بنانے کے مساوی مواقع فراہم ہوں

گے۔

انہوں نے کہا کہ اس نظام کی کامیابی تدریسی عملے کے انتخاب اور استعداد کار میں اضافے پر منحصر ہے۔ نئی پالیسی کی بدولت پاکستان میں معیاری تعلیم کا حصول ممکن ہو سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یکساں نظام تعلیم خطے کے دیگر ممالک کے لئے قابل تقلید مثال قائم کرے گا۔ وزیراعظم کو اسلام آباد کے وفاقی نظامت تعلیم کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی اور تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎