Android AppiOS App

کیا پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرے گا؟ عمران خان نے جرمن جریدے کو انٹرویو کے دوران دوٹوک اعلان کر دیا

  ہفتہ‬‮ 31 اکتوبر‬‮ 2020  |  20:37

و زیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا،ہمارا موقف بڑا واضح ہے، اپوزیشن بد عنوانی کے مقدمات سے بری کر نے کیلئے بلیک کر نا چاہتی ہے ، کوئی ریلیف نہیں ملے گا ،روپیہ کمزور ہونے سے مہنگائی بڑھی ہے ، ٹیکس نیٹ بڑھا رہے ہیں، سخت اصلاحات سے اپوزیشن والے

پریشان ہیں ، ہم کامیاب ہو گئے تو یہ کرپشن کیسز میں جیل چلے جائینگے ۔جرمن میڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے مغربی ممالک سے زیادہ ہے، میں آزادی کے لفظ کا استعمال بہت محتاط انداز میں کرتا ہوں، میں نے اپنی زندگی کی دو دہائیاں برطانیہ میں گزاری، وہاں پر بہتان سے متعلق بہت زیادہ مضبوط قوانین ہیں،

بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے، بطور وزیراعظم مجھ پر بہت سارے بہتان لگے، انصاف کے لئے عدالت بھی گیا ۔مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت جب اقتدار میں آئی تو سب سے پہلے میری حکومت یمن میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے آگے بڑھی،اس کیلئے ایران سے بات بھی کی جبکہ سعودی عرب سے محمد بن سلمان سے بھی رابطہ کیا۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے اسرائیل سے تعلق کے

حوالے سے عمران خان نے کہا کہ ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہے کیونکہ یہ ممالک اپنی عوام کا سوچتے ہیں، پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا،اس معاملے پر ہمارا موقف بڑا واضح ہے۔ہمارا موقف قائداعظم نے 1948 میں واضح کر دیا تھا کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔ ان کی انصاف کے مطابق آبادکاری نہیں ہوتی جو فلسطینیوں کا دو قومی نظریہ تھا کہ ان کو ان کی پوری ریاست ملے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چین نے 7 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر بہت بڑا کام کیا، یہی وہ منصوبہ ہے جو میں اپنانا چاہتا ہوں اور اپنے ملک سے غربت کا خاتمہ کرنا چاہتا ہوں، وہاں قانون بہت سخت ہیں، گزشتہ 7 سالوں کے دوران انہوں نے 450 وزیروں کو کرپشن کی وجہ سے

جیل میں بھیجا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک غریب اس لئے ہے کہ کیونکہ یہاں وسائل کی کمی ہے، ملکی لیڈر شپ کرپٹ

رہی ہے، پانامہ پیپرز میں سب کچھ عیاں ہوا جس میں بتایا گیا کہ پاکستان سے کروڑوں ڈالرز پراپرٹی حاصل کرنے کیلئے لندن بھیجے گئے۔ اپوزیشن سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ میں ان کی بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا، یہ لوگ مجھے بدعنوانی کے مقدمات سے بری کرنے کیلئے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں تاہم میں انہیں کوئی ریلیف نہیں دوں گا،عمران خان نے کہا کہ جب اقتدار میں آیا تو امپورٹ 60 ارب ڈالر تھی جبکہ ایکسپورٹ محض 20 ارب ڈالر تھی، ملکی روپیہ کمزور ہوا جس کے باعث مہنگائی بڑھی اور چیزیں مہنگی سے مہنگی ہوتی گئیں، ہم نے اپنا ریونیو بڑھانے کے لئے کچھ چیزیں مہنگی بھی کیں تاہم اب اپنی ٹیکس نیٹ بڑھا رہے ہیں، اس کے لئے ہم نے سخت اصلاحات بھی کی ہیں، اصلاحات سے متعلق اپوزیشن والے پریشان ہیں اگر ہم کامیاب ہو گئے تو یہ کرپشن کیسز میں جیل چلے جائیں گے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎