Android AppiOS App

سعودیہ میں لڑکی نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر کیا کر دیا، سن کر آپ حیران رہ جائیں گے

  بدھ‬‮ 28 اکتوبر‬‮ 2020  |  0:44

بدل چکی ہے۔ المرصد کے مطابق ایک خیراتی ادارے کے سربراہ انجینئر حسین بحری نے سعودی ٹی وی چینل mbc سے گفتگو کے دوران ایک لڑکی کی داستان سُنائی جو والدین کے ہوتے ہوئے بھی ٹھوکریں کھانے کے بعد گناہ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکی ہے۔حُسین بحری کے مطابق اس لڑکی نے بتایا” میں ایک عزت دار گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں ۔ بدقسمتی سے میرے ایک ایسے شخص سے رومانی تعلقات استوار ہو گئے، جو جرائمپیشہ اور عیاشطبیعت کا مالک تھا۔ مگر میں اس کی حقیقت سے ناواقف تھی۔ ہمارے تعلقات کے بڑھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک روز میری طبیعت خراب ہو گئی۔مجھے اپنی حالت پر شک پڑا تو پریگننسی ٹیسٹ کروانے کے بعد مجھے پر پریشانی کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

میں

حقیقت میں حاملہ ہو چکی تھی۔ پہلے میں نے حملضائع کروانے کا ارادہ بنایا مگر سعودی عرب میں اسے غیر قانونی خیال کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی کلینک چھپ چھُپا کر یہ کام کرتا بھی تو اس کی فیس 20 ہزار ریال تھی، جو ایک بڑ ی رقم ہونے کے باعث میری حیثیت سے باہر تھی۔ میری پریشانی بڑھ گئی کیوں کہ مجھے پتا تھا کہ گھر والے یہ حقیقت جاننے کے بعد مجھے قتلکر ڈالیں گے۔

اپنا گناہ چھپانے کی خاطر ایک روز میں گھر سے بھاگ کر اپنے آشنا کے فلیٹ میں چلی گئی۔ تاہم کچھ روز بعد وہ اچانک فلیٹ چھوڑ کر فرار ہو گیا اور اپنا موبائل فون بھی بند کر ڈالا۔ میں نے ایسے وقت میں خود کُشیکا بھی سوچا۔ پانچ مہینے کا حمل ہونے کے بعد اکیلی اور بے سہارا ہونے کے باعث میں پیٹ بھرنے کے لیے گناہ کے راستے پرچل نکلی۔ مگر میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عنقریب مجھے ایک ناجاز اولاد کو جنم دینے والی ہوں۔

سعودی قانون کے مطابق زچگی کے آپریشن کے لیے خاتون کے خاوند کا ہونا ضروری ہے۔مجھے قانونی طور پر کوئی ہسپتال قبول نہیں کرے گا۔ اگر میرا بچہ ہو گیا تو میں اسے کہاں لیے پھروں گی؟ کیا مجھے اس ناجاھز بچے کو پیدا ہوتے ساتھ ہی کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دینا چاہیے یا کسی مسجد کے دروازے پر رکھ دینا چاہیے یا مادینا چاہیے۔ میں ہر روز اپنا سر دیواروںسے پٹختی ہے، کہ اتنی بڑی غلطی کیوں کر بیٹھی

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎