Android AppiOS App

پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر ، تعلیمی اداروں کے حوالے سے انتہائی تشویشناک خبر دیدی گئی

  منگل‬‮ 27 اکتوبر‬‮ 2020  |  12:35

پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر ، تعلیمی اداروں کیحوالے سے انتہائی تشویشناک خبر دیدی گئی ، والدین اور اساتذہ کیلئے افسوسناک انکشاف ۔۔۔ عالمی بینک کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے اسکولوں کی بندش کے نتیجے میں پاکستان میں تعلیمی بدحالی 79 فیصد بڑھ جائے گی۔ تعلیمی بدحالی

کے معنی ہیں کہ 10 سال کی عمر تک سادہ سی تحریر کو پڑھ اور سمجھ نہیں پانا، کم اور متوسط آمدن والے ممالک میں 53 فیصد بچے اپنی پرائمری اسکول کی تعلیم ختم ہونے تک سادہ سی کہانی پڑھ اور سمجھ نہیں پاتے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس شرح میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو اسکولوں سے باہر ہیں اور وہ بھی جو اسکول کی

تعلیم حاصل کرنے باوجود 10 کی عمر تک پڑھنا نہیں سیکھ پاتے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تعلیمی بدحالی کی شرح پہلے ہی خاصی بلند یعنی 75 فیصد ہے۔ ’کووِڈ 19 کے باعث اسکولوں کی بندش سے پاکستان میں تعلیمی نقصان‘ کے عنوان سے عالمی بینک کی رپورٹ میں

کہا گیا کہ یہ تخمینے پر پتھر پر لکیر نہیں اور حکومت کے تعاون کے ساتھ ڈیولپمنٹ پارٹنرز مناسب اقدامات اٹھا کر ان اعداد و شمار پر اثر ڈال سکتے ہیں بالخصوص اب جبکہ اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں۔ ان اقدامات میں یہ یقینی بنانا کہ اسکول نہ چھوڑنے دیا جائے، اسکولوں میں داخلے کی ایک منظم مہم چلائی جائے اور داخلوں اور دوبارہ داخلوں پر رقم دی جائے، مسئلے کی اصل نوعیت جاننے کے لیے طلبہ کے ٹیسٹس کا استعمال کیا جائے اور اساتذہ کو طلبہ کی سطح پر تعلیم بہتر بنانے اور اس کی منصوبہ بندی میں سہولت فراہم کی جائے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ مواصلات کو توسیع دے کر فاصلاتی تعلیم تک رسائی بہتر بنائی جائے،

ڈیوائس کی ملکیت اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جب پروگرام دستیاب ہو تو بچوں کے اہل خانہ اس بات سے واقف ہوں۔ اس کے علاوہ مواد کو مزید ترقی دے کر فاصلاتی تعلیم کا معیاد بہتر بنایا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کووِڈ 19 کے آغاز سے پاکستان نے فاصلاتی تعلیم میں معاونت کے لیے ایک بہترین انفرا اسٹرکچر قائم کیا تاہم عالمگیر اپیل کے باوجود فاصلاتی تعلیم ہر ایک کے لیےے قابل رسائی نہیں ہے۔ پاکستان میں اکثر گھروں میں ٹیلی ویژن دستیاب ہے لیکن عالمی سطح پر قابل رسائی

سے کوسوں دور ہے حتیٰ کہ ٹیکنالوجی کے سادہ سے آلات مثلاً ریڈیو بھی باقاعدگی سے استعمال نہیں ہوتے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ

ایک اندازے کے مطابق مزید 9 لاکھ 30 ہزار بچوں کئ پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں سے نکلنے کا اندیشہ ہے جبکہ 2 کروڑ 20 لاکھ بچے پہلے ہی اسکولوں سے باہر ہیں اور اس کے بعد اس میں 4.2 فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ عالمی سطح پر پاکستان وہ ملک ہے جہاں کووِڈ 19 سے پیدا ہونے والے بحران کے سبب اسکولوں کو چھوڑنے سے شرح سب سے زیادہ ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎