Android AppiOS App

حکومت کے خلاف ایک اور دھرنے کا اعلان ہو گیا

  منگل‬‮ 20 اکتوبر‬‮ 2020  |  19:48

حکومت کو کسان اتحاد نے پندرہ دن کی ڈیڈ لائن دے دی ہے، کسان اتحاد نے 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا اور حکومت کو پندرہ روز کی ڈیڈ لائن دے دی۔ کسان اتحاد کا کہنا ہے اگر مطالبات پورے نہ کئے گئے 10 نومبر کو اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے گا اور ملک بھر کے زمیندار، کاشتکار اور کسانوں سمیت زراعت سے وابستہ لاکھوں افراد اپنے مطالبات

تسلیم ہونے تک اسلام آباد میں ہی موجود رہیں گے۔ کسان اتحاد کے چیئرمین راؤ طارق اشفاق، صوبائی صدر چودھری عبدالرؤف تتلہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 70 فیصد آبادی کے حصے کاشتکاروں کو یکسر فراموش کردیا گیا ہے اور ان پر عرصہ حیات بھی تنگ کیا جا رہا ہے۔ ہمارا سب سے

بڑا مسئلہ گنے اور گندم کی سرکاری خریداری کے حوالے سے ہے۔ چیئرمین پاکستان کسان اتحاد راؤ طارق اشفاق نے کہا ہے کہ گنے کی قیمت گزشتہ سال 180 تھی جو اب 200 کی ہے،صرف 20 روپے بڑھائی گئی،دوسری جانب چینی کی قیمت مزید بڑھائی گئی،چینی کی قیمت 60 سے 110 روپے کی ہوگئی ہے،ہم سے 190 روپے کا گنا لے کر 60 روپے فی کلو بنائی گئی،جسے 50 روپے کا اضافہ کردیا گیا کوئی پوچھنے والا ہے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیئرمین پاکستان کسان اتحاد راؤ طارق اشفاق نے کہاکہ ہم سے گندم 1400 روپے فی من خریدی گئی مارکیٹ میں 2ہزار سے 2300 تک بک رہی ہے،اس سے کسان اور آرھتی کو فائدہ نہیں ملا جو سرمایہ دار تھے وہ امیر ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ ملک کی گوڈ سکیورٹی ہمارے زمہ ہے لیکن اس کو قائم کرنے کے لئے ہم مسائل کا دو چار ہیں،ہم جانور، زیور بیچ کر ایک فصل پر لگاتے ہیں جب فصل پکتی ہے تو اس کی قیمت ہی ہمیں نہیں ملتی،ہمیں ٹیوب ویل کی بجلی 4 روپے فی یونٹ دی جائے

اورآلو اور مکئی کی بجائی شروع ہے فاسفورس، ڈی اے پی، پوٹاش کھادیں سستی کی جائیں جب بجائی کا سیزن ہوتا ہے کھادیں مہنگی ہوجاتی ہیں،کھادوں پر ڈبل ڈبل منافع کمایا جاتا ہے،اب کھادوں پر سبسڈی کی ضرورت پے جن فصلیں کاشت ہوجائیں گی حکومتیں کھادو پر سبسڈی دے دیتے ہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ کھادوں کی قیمتیں ابھی سبسیڈائز کی جائیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت 1600 گندم کی قیمت

رکھنے جارہی ہے جبکہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں گندم کی قیمت 2100 ہے،یہ گندم ساری سمگل ہوجائے

گی جس سے گندم کی قلت کا سامنا ہوگا اور حکومت کو 2100 روپے فی من دوسرے ممالک سے خریدنی پڑے گی۔ہمارا مطالبہ ہے کہ گندم کی قیمت 2000 روپے فی من رکھی جائے تاکہ گندم سمگل نہ ہو،حکومت 400 روپے سبسڈی دے کر گندم کی قیمت 2000 مقرر کرے ورنہ گندم غائب ہوگی۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎