Android AppiOS App

عوام کی سستی سواری بھی مہنگی ہو گئی، موٹر سائیکلوں کی قیمت میں بڑا اضافہ

  منگل‬‮ 20 اکتوبر‬‮ 2020  |  13:16

سیلرز نے ہونڈا اور سوزوکی موٹر سائیکلوں کی قیمت بڑھادی،اگر آپ ہونڈا 125 موٹر سائیکل فوری طور پر خریدنا چاہتے ہیں تو کمپنی نرخ ایک لاکھ 30 ہزار روپے پر 15 ہزار روپے تک اضافی رقم دینے کیلئے تیار ہوجائیں، یا دوسری صورت میں آپ کو ایک ماہ انتظار کرنا ہوگا۔موٹر سائیکل کمپنیوں کو 20 سالہ تاریخ میں پہلی بار گاڑیاں ڈیلیور کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجہ طلب میں دوگنا اضافہ ہے۔ہونڈا کمپنی کے ڈیلر فیصل آٹو موبائلز کے نمائندے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر کسی کو کمپنی نرخ پر

موٹر سائیکل خریدنی ہے تو اسے ڈیلیوری کیلئے ایک ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔ڈیلر نے بتایاکہ اگر آپ کو فوری طور پر موٹر سائیکل چاہئے تو اکبر روڈ

پر غیر رجسٹرڈ سیلرز سے ہونڈا 125 کی قیمت ایک لاکھ 50 ہزار روپے تک ادا کرنی پڑے گی۔پاک سوزوکی کے رجسٹرڈ ڈیلرکابھی کہناتھاکہ سوزوکی موٹر سائیکل کا ڈیلیوری ٹائم ایک ماہ تک ہے تاہم انہوں نے موٹر سائیکل کی قیمت بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مارکیٹ سے لی جاسکتی ہے۔سرمایہ کار جو رقم کار خریدنے کے خواہشمند سے وصول کرتے ہیں وہ کار کی اصل رقم سے زیادہ ہوتی ہے۔ ایسا صرف پاکستان میں ہوتا ہے جہاں کار ساز ادارے بعض اوقات گاڑی ڈیلیور کرنے میں ایک ماہ لگاتے ہیں۔ مثال کے طور پر خریدار کو اپنی گاڑی بک کرانے پر عارضی رقم ادا کرنی پڑتی ہے جبکہ اس کی ڈیلیور دو ماہ بعد مکمل ادائیگی پر کی جاتی ہے۔ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹر سائیکل اسمبلرز(اے پی ایم اے)کے چیئرمیں محمد صابر شیخ نے بتایاکہ انڈسٹری کو بنیادی طور پر سپلائی کے مسئلے کا سامنا ہے، پارٹس اور دیگر

خام اشیاء کی فراہمی میں گزشتہ سال کرونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونیوالی ایمرجنسی صورتحال کے باعث بگڑی ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پہلے گزشتہ سال نومبر میں چین میں پیداوار متاثر ہوئی اور بعد ازاں پاکستان میں مارچ تا مئی لاک ڈان نے صورتحال مزید خراب کردی اور پھر بعد ازاں جون میں موٹر سائیکل کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔صابر شیخ نے بتایاکہ وہ لوگ جو کے پاس تین ماہ کی پیشگی انوینٹری تھی، (یعنی جو آئندہ تین ماہ کی طلب کیلئے کافی تھی)اب وہ بھی خالی ہاتھ بیٹھے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت مشہور چینی موٹر سائیکلیں یونیق اور سپر پاور بھی 2 سے 3 ہزار روپے کی اضافی قیمت

پر فروخت ہورہی ہیں۔آٹو پارٹس کے کاروبار سے وابستہ عمر بٹ نے بتایاکہ انڈسٹری کو اسٹیل شیٹس اور اسٹیل کے پائپس کی بھی قلت کا سامنا ہے، اس طرح کی دھات ہر قسم کی گاڑیوں بشمول موٹر سائیکل اور کاروں میں استعمال کی جاتی ہے۔عمر بٹ نے بتایا کہ اس وقت موٹر سائیکل کے جن پارٹس کی قلت ہے ان میں اسٹینڈ، فٹ ریس، مڈ گارڈ وغیرہ شامل ہیں۔آٹو پارٹس سیلر محمد وسیم نے تصدیق کی کہ اس وقت موٹر سائیکل کے پارٹس بشمول چین اسپوکٹ کی قلت ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎