Android AppiOS App

جہانگیر ترین سے خفیہ رابطے ۔۔۔! وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر سے استعفیٰ کیوں لیا گیا؟ انکشاف نے نیا پنڈورہ باکس کھول دیا

  ہفتہ‬‮ 17 اکتوبر‬‮ 2020  |  15:55

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی (ایم پی اے) خرم سہیل لغاری نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بیوروکریسی کے مبینہ عدم تعاون پر وزیر اعلیٰ کے مشیر اور پرائس کنٹرول کمیٹی کی رکنیت سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے اس سے استعفیٰ کا کہا کیونکہ وہ ہمیشہ (مبینہ طور پر) پارٹی ڈیکورم کی خلاف ورزی کرتے تھے اور جہانگیر ترین کے

پارٹی سے راستے جدا کے بعد بھی ان سے ملاقاتیں کررہے تھے۔خرم سہیل لغاری کا استعفے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ جب ان کے حلقے میں زمینیں اور مکانات دریائے سندھ کے کٹاؤ کی وجہ سے متاثر ہوئے تو کال کرنے پر متعلقہ افسران نے ان کی کال

ہی نہیں اٹھائی اور بعد میں فنڈز بھی نہیں دیے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ خرم سہیل لغاری نے اجلاسوں کے دوران انتظامی عہدیداروں پر برہمی کا اظہار کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں 3 دن قبل ڈپٹی کمشنر آفس میں ہونے والے پرائس کنڑول کمیٹی کے اجلاس میں بھی نہیں بلاگیا تھا۔واضح رہے کہ

خرم سہیل لغاری سابق رکن صوبائی اسمبلی سردار اللہ وسایا چنو کے بیٹے ہیں اور وہ 2018 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے رکن بنے تھے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ وہ علی جہانگیر ترین کے قریبی سمجھے جاتے ہیں اور وہ (مبینہ طور پر) ان کے ہمراہ 3 مرتبہ ملتان سلطان کرکٹ ٹیم کے ہمراہ دبئی جاچکے ہیں۔خرم سہیل لغاری کا مزید کہنا تھا کہ وہ بیورو کریسی کے رویہ سے مایوس تھے۔علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان کا یہ مؤقف تھا کہ وہ اگر ان کے پارٹی قیادت سے اختلافات تھے تو انہیں رکن صوبائی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونا چاہیے۔ کہ وہ اگر ان کے پارٹی قیادت سے اختلافات تھے تو انہیں رکن صوبائی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونا چاہیے۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎