Android AppiOS App

آرمی چیف سے ایک اورخفیہ ملاقات کاانکشاف ۔۔جنرل قمرجاویدباجوہ کوکیاخدشات تھے ،ملاقات میں کون کون موجودتھا

  جمعہ‬‮ 16 اکتوبر‬‮ 2020  |  23:25

شاہد خاقان عباسی کا 2018 میں آرمی چیف سے ملاقات کا اعتراف۔۔۔خواجہ آصف اور مفتاح اسماعیل بھی ہمراہ تھےسابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ 2018 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی درخواست کی تھی اور

ملاقات میں انہوں نے معیشت پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔ اس ملاقات میں ان کے ہمراہ خواجہ آصف اور مفتاح اسماعیل بھی موجود تھے۔ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ یہ ملاقات 2018 میں ہوئی تھی۔ عام انتخابات کے بعد نومبر 2018 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی درخواست پر ہماری میٹنگ ہوئی۔ وہ معیشت کی صورتحال پر بات کرنا چاہتے تھے۔سابق وزیر

اعظم نے کہا چونکہ ہم حکومت میں رہ چکے تھے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو کچھ پہلوؤں پر تشویش تھی۔ جو آئی ایم ایف کا معاملہ تھا اور کچھ دیگر باتیں بھی تھیں جن کا تفصیل سے ذکر کرنا مناسب نہیں ہے، اس ملاقات میں میں خواجہ آصف اور مفتاح اسماعیل آرمی چیف سے ملے تھے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کو یہ خدشہ تھا کہ معیشت درست سمت میں نہیں جارہی۔ مہنگائی کے خدشات تھے جو اس وقت بڑھ رہی تھی۔ ان کو روپے کی قدر میں گراوٹ پر بھی تشویش تھی۔ وہ ہم سے جاننا چاہتے تھے کہ ہم نے معیشت کو کیسے سنبھالا؟ کیا نہیں کیا اور کیا کرنا چاہیے؟ شاہد خاقان عباسی کے مطابق بڑی سیر

حاصل اور لمبی گفتگو ہوئی تھی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے بھی ملاقات میں اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ جس طرح تحریک انصاف کی حکومت معیشت چلارہی ہے اس سے معاملہ بہت خراب ہوجائے گا۔ ہمارا خیال تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کے منفی اثرات سامنے آنے میں 3 سال لگ سکتے ہیں۔ مگر ہمارے خدشات 6 ماہ میں سچ ثابت ہو گئے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے عوام مشکل وقت سے گزر رہے ہیں اور اس حکومت سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ہر چیز کا تجربہ کیا گیا ہے۔ ملک کو آئین کے مطابق چلانے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ملک کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو عوام کی رائے اور مینڈیٹ کا احترام کرنا ہوگا۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎