Android AppiOS App

بچوں پر ہزاروں روپے فضول میں لگانا چھوڑیں بچوں کو زہین بنانا ہے یہ چیزیں کھانے میں دیں

  بدھ‬‮ 14 اکتوبر‬‮ 2020  |  17:41

چھوٹے بچوں کی نسبت سکول جانے والے بچوں کو غذائیت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اول تو 4 سے 7 برس کی عمر میں بچوں کی نشوونما تیز ہوتی ہے، دوم سکول جانے کی وجہ سے ان کی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔ اس دوران خوراک کی مقدار سے زیادہ یہ بات اہم ہوتی ہے کہ بچے کو مکمل غذائیت مل رہی ہے یا نہیں۔ اس عمر میں بہت سے بچے عام کھانا کھانے سے بھاگتے ہیں اور صحیح خوراک کے بجائے فاسٹ فوڈ اور دوسری غیر مناسب بازاری اشیا کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ انہیں ایسے کھانے کھلانا ضروری ہیں جو غذائیت سے بھرپور ہوں اور انہیں توانائی فراہم کریں۔

بچوںکی اس عمر میں آپ ان کے لیے جن کھانوں کا انتخاب کریں گے وہ

اگلے چند سالوں میں ان کی صحت اور کھانے پینے کی عادات پر براہِ راست اثر کریں گے۔ اچھا کھانا بچوں کی جسمانی صحت سمیت ان کے ذہن کو تیز کرنے اور ان کے موڈ پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بچوں کی نشوونما کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے آپ کا یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کس عمر کے بچے کو کھانے میں کتنی کیلوریز چاہئیں۔ اس لیے ان کو ایسی غذائیں دیں جن میں مطلوبہ مقدار میں تمام غذائی اجزا موجود ہوں۔

اس کے لیے آپ درج ذیل عناصر کو مدنظر رکھیں۔ کیلوریز: سکول جانے والے بچوں کو بڑھنے اور کام کرنے کے لیے بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت سے بچوں کو مطلوبہ غذائی اجزا میسر نہیں آتے اور وہ کمزور ہوتے ہیں۔ لیکن ایسے بچوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو موٹاپے کا شکار ہیں۔ اس کی ایک خاص وجہ تو یہ ہے کہ بچے بہت زیادہ کیلوریز لیتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ لگ رہا ہے کہ بچہ موٹاپے کا شکار ہو رہا ہے تو اس بات کو بہت بڑا مسئلہ بنانے کے بجائے بچے کو جسمانی مشاغل کی طرف مائل کریں جیسا کہ فٹ بال، نیٹ بال، سائیکلنگ اور سوئمنگ وغیرہ۔

بچے کے کھانے پینے کی عادات کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ بچے کو ایسا کھانا کھانے دیں جس سے اس کی نشوونما پر برا اثر نہ پڑے اور اس کا موٹاپا بھی کنٹرول میں رہے۔ ایسے ہی چند اہم غذائی اجزا کو ذیل میں بیان کیا جا رہا ہے۔ ان سے آپ کے بچے کی نشوونما بھی صحیح طریقے سے ہو گی

اور وہ موٹاپے سے بھی نجات پا لے گا۔

کیلشیم: کیلشیم بچے کی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ آسانی سے ڈیری پروڈکٹس میں مل جاتا ہے جیسا کہ دودھ اور دہی۔ کیلشیم کے لیے مالٹا، اس کا جوس اور ہرے پتوں والی سبزیاں بھی بچوں کو دی جا سکتی ہیں۔ اپنے بچے کو باقاعدگی سے کیلشیم پر مبنی غذا دیں۔

فولک ایسڈ: یہ وٹامن بچے کی نشوونما کے لیے بہت اہم ہے۔ عموماً اسے وٹامن بی کہا جاتا ہے۔ یہ دماغ، خون کے سرخ خلیوں اور سننے کی صلاحیت کے لیے اہم ہے۔ یہ ڈی این اے اور آر این اے کی تقسیم اور ملاپ کے ساتھ خلیوں کی تقسیم اور نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ بچے اس وٹامن کو بہت کم مقدار میں کھاتے ہیں خاص طور پر وہ جو صبح کا ناشتہ نہیں کرتے۔ انہیں زیادہ سیریلز کھلائے جا سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ آپ اس وٹامن کے لیے ڈبل روٹی اور ہرے پتوں والی سبزیوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔

فولاد: فولاد آپ کے جسم کے نہ صرف سرخ خلیے بناتا ہے بلکہ دیگر کئی اہم امور سر انجام دیتا ہے۔ فولاد کی کمی کی وجہ سے انیمیا یعنی خون کی کمی کی بیماری ہو جاتی ہے۔ چھوٹے بچوں میں یہ بیماری بڑوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔اس کے لیے سرخ گوشت، پھلیاں، دالیں اور سبز پتوں والی سبزیاں استعمال کریں۔ ایسی غذائیں لینی چاہئیں جن میں وٹامن سی زیادہ یا مناسب مقدار میں موجود ہو کیونکہ یہ فولاد کو جسم میں جذب کرنے میں مدد کرتا ہے۔

چینی اور چکنائی: شوگر اور چکنائی پر مبنی کھانے موٹاپے کا سبب بنتے ہیں، جیسے میٹھے بسکٹ، کیک، تیل، گھی، تیل میں تلی ہوئی اشیا، آئس کریم، چاکلیٹ، شوگر ڈرنکس وغیرہ۔ ان تمام کو کم مقدار میں خود بھی کھائیں اور بچوں کو بھی دیں۔ ان میں حرارے زیادہ ہوتے ہیں اس لیے بچہ موٹاپے کا شکار ہو سکتا ہے۔ پس بچوں کو میٹھی اشیا زیادہ نہ دیں۔ ان کا ایک نقصان یہ ہے کہ ان سے پیٹ بھر جاتا ہے اور بھوک کم ہو جاتی ہے ۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎