Android AppiOS App

تبدیلی کا اصل چہرہ بے نقاب۔۔۔ وزیراعظم عمران خان کے دوست انیل مسرت کے کالے کرتوت سامنے آگئے،

  بدھ‬‮ 14 اکتوبر‬‮ 2020  |  16:32

احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کردی، تفتیشی افسر نے بتایا کہ ’23 اگست 2019 کو شہباز شریف نے پرائیوٹ افراد کے قرض سے متعلق انیل مسرت کا نام لیا‘۔

ڈان نیوز کے مطابق احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے ریفرنس پر سماعت کی جہاں نیب کی جانب سے عثمان جی راشد چیمہ اور شہباز شریف کی جانب سے امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیے۔شہباز شریف نے عدالت میں جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’گزشتہ سماعت پر آپ نے کھانا زمین پر دیے جانے کے خلاف حکم دیا تو کھانا زمین پر ملنا بند ہو گیا تاہم عمران خان

اور شہزاد اکبر کے حکم پر مجھے ایذا پہنچایا گیا‘ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’شہباز شریف کو گھومنے والی کرسی فراہم کی گئی ہے،یہ کہاں کا اصول، کہاں کا انصاف ہے کہ فرد کو تکلیف پہچائی جائے‘۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف کے لیے میڈیکیٹڈ بستر اور 24 گھنٹےڈاکٹرز موجود ہیں ۔ شہباز شریف کی جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے نیب پراسکیوٹر عثمان جی راشد کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش شہباز شریف کو سوالنامہ دیا گیا مگر جواب نہیں ملا، 14 کروڑ 40 لاکھ کی رقم سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، شہباز شریف نے 20 کروڑ روپے 2011 میں بحریہ ٹائون سے وصول کیے اورعدالت سے استدعا کی کہ شہباز شریف سے مزید تفتیش کرنی ہے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔شہباز شریف کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک خریدے گئے فلیٹس کی 85 فیصد رقم بینکوں سے لی گئی، فلیٹس خریدنے کےلیے رقم کہاں سے آئی اور کس نے دی مکمل تفصیلات جمع کروا چکے ہیں،جو رقم نجی افراد، سے لی ان کو اثاثوں میں ظاہر کیا گیا ہے اور جو سوالنامہ نیب آج پیش کر رہی ہے اس کے جواب تو پہلے ہی دے چکے ہیں، نیب والے کھیل کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی دوران شہباز شریف کا کہنا تھا کہجو بھی پراپرٹی بنائی بالکل قانون کے مطابق بنائی کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا،1997 میں میں نے پنجاب بینک کے صدر کو کہا کہ میرے خاندان کو ایک ڈھیلے کا بھی قرضہ نہ دیں، تینوں ادوار میں پنجاب بینک سے میرے خاندان کو کوئی قرضہ

نہیں دیا گیا جس پر جج نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے کہ اب نیب کو شہباز شریف کی حراست کیوں چاہیے، اگر نیب شہباز شریف سے سوال کر رہا ہے اور وہ جواب نہیں دیتے تو پھر کیا ہو گا، شہباز شریف کا حق ہے کہ وہ چپ رہیں، اگر شہباز شریف جواب نہیں دے رہے تو پھر حراست میں لے کر کیا کرنا ہے، انکوائری یا تفتیش میں منتقلی کے دوران کتنی بار شہباز شریف پیش ہوئے؟ جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ وہ 4 مرتبہ پیش ہوئے ہیں۔تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ’23 اگست 2019 کو شہباز شریف نے پرائیوٹ افراد کے قرض سے متعلق انیل مسرت کا نام لیا۔ جج نے استفسار کیا کہ بنیادی معلومات آپ کو مل گئیں اور اگر مزید معلومات فراہم نہیں کرتے تو نقصان کس کا ہو گا؟۔اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’نیب والے سو فیصد عدالت میں غلط بیانی سے کام لے رہے ہیِں۔شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’نیب جس جرات سے عدالت کو گمراہ کر رہی ہے بڑے افسوس کی بات ہے۔ بعد ازاں احتساب عدالت نے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے ان کا 20 اکتوبر تک کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا اور نیب کو ہدایت دی کہ ایک ہفتے میں تفتیش مکمل کریں۔

انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎